Best Offer

غزل: نادانی مری

مہیب الرحمٰن وفاؔ
کاؤنسلنگ انجینئر، ایوڈا، امراوتی مہاراشٹرا

میٹھے رسیلےخوشنما پھل جیسی ہے بانی مری
یوں ہی نہیں اے دوستو دنیا ہے دیونانی مری

آنگن میں ہے روٹھی ہوئ کیوں رات کی رانی مری
کس موڑ پر لے آئی ہے اک مجھکو نادانی مری

میں اپنوں کو دشمن کی صف میں دیکھ کر حیران تھا
یارو مرے اپنوں نی ہی چاہت نہیں جانی مری

جس کے ہر اک فرمان پر بیساختہ دوڑا کیا
اس نے تو کوئ بات ہی اب تک نہیں مانی مری

فصل خزاں میں بھی پرند خوش گپیوں میں مست تھے
یہ دیکھ کر کچھ اور بھی حیران تھی حیرانی مری

وہ دل ربا تجھکو "وفا” کیوں جابجا ڈھونڈا کیا
کیا رنگ لائ دوستو آخر یہ من مانی مری