Best Offer

خلاصۂ قرآن(چوتھا پارہ)

ازقلم: مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

چوتھا پارہ’’ لن تنالوالبر حتی تنفقوا‘‘ سے شروع ہے، اس کی ابتدا ء میں اللہ کے راستہ میں بہترین مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ،پھر خانہ کعبہ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں کہ یہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے جس کو اللہ کی عبادت کے لئے بنایا گیا ہے اس میں واضح نشانیاں ہیں ،مقام ابراہیم ہے ،جو اس میں داخل ہو جائے وہ مامون ہو جاتا ہے ،اس پارہ میں مسلما نوں کو تعلیم دی گئی کہ تم آپس میں اتحاد بنا کر رہو ،اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو ،آ پس میں تفرقہ نہ ڈالو ،اس پارہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تعلیم بھی دی گئی ہے ، اس میں امت مسلمہ کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم بہترین امت ہو ،اللہ تعالیٰ نے تم کو لوگوں کے فائدے اور نفع کے لئے پیدا کیا ہے ،تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے روکتے ہو ،اور اللہ پر ایمان لاتے ہو ،اس پارہ میں تین غزوات کا ذکر بھی ہے ،غزوہ بدر ،غزوہ احد اور غزوہ حمراء الاسد ،غزوۂ بدر اسلا م کی سب سے پہلی جنگ ہے اس میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور کفار و مشرکین کی تعداد بہت زیادہ،اس کے باوجود اللہ کی مدد سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ،البتہ جنگ احد میں مسلمانوں کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے فتح شکست میں بدلی، وجہ یہ ہوئی کہ صحابہ کی ایک جماعت کو ایک اہم جگہ پر متعین کیا تھا ،جہاں سے کافروں کے حملہ کرنے کا ڈر تھا ،انہیں ہدایت کر دی گئی کہ وہ کسی حال میں اس جگہ سے نہ ہٹیں ،مگر جب فتح ہو گئی ،تو ان لوگوں نے اس مورچہ کو چھوڑ دیا ،اس کو خالی دیکھ کر کفار مکہ نے اس جانب سے حملہ کر دیا ،جس کی وجہ بہت سے صحابہ شہید ہوگئے اور بہت سے لو گ زخمی ہو گئے ،اسی حالت میں پھر مسلمانوں نے جرأت و ہمت سے کام لیا ،اور دوبارہ کفار پر حملہ کر کے ان کو شکست دے دیا ،اس طرح احد کی جنگ میں بھی مسلمانو ں کو فتح حاصل ہوئی ،پھر ان غزوات میں مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی ،مسلمانو ں کو یہ بھی بتایا گیا کہ کامیابی کے کیا اصول ہیں ،وہ اصول صبر،آپس میں رابطہ اور تقویٰ ہیں ،ان پر عمل کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے،اس کے بعد سورہ نساء بھی ہے، اس پارہ میں غریبوں کے مال کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے ، مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ یتیموں کا مال ان کے حوالے کر دینا چاہئے ،نہ اس کو کھائیں اور نہ ان کے عمدہ مال کو ردی مال میں ملاکر اس کو بدلنے کی کوشش کریں کیونکہ ایسا کرنا بڑ اگناہ ہے ، مومن مردوں کو حکم دیا گیا کہ اگر تم میں حقوق کے ادا کرنے کی صلاحیت ہو تو تم چار شادیاں کر سکتے ہو ، لیکن اگر تم میں صلاحیت نہ ہو تو صرف ایک پر اکتفا کرو ، اس میں میراث اور ترکہ کے تقسیم کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے ،پھر مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ بارہ عورتیں ایسی ہیں جو محرمات میں داخل ہیں ، ان سے نکاح کا رشتہ قائم نہیں کیا جا سکتا ہے ، وہ یہ ہیں مائیں ،بیٹیاں ، بہنیں ،پھوپھیاں ، خالا ئیں ، بھتیجیاں ،بھانجیاں ، رضاعی مائیں ، رضاعی بہنیں ،ساس ،سوتیلی بیٹیاں اور بہوئیں ،ان سے نکاح درست نہیں ہیں ۔

Check Also

قرآنی تعارف: سورۂ انفال

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامیسینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد سورۃ الانفال مدنی سورتوں میں شامل …