Best Offer

قرآنی تعارف: سورۂ ہود(مکی)

ازقلم(مولانا)عبدالحفیظ اسلامی
سینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد

اس سورۃ میں حضرت ہود ںکا تذکرہ مبارکہ ہے اسی مناسبت سے اسے آپ ا کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ ایک سو تیئیس ۱۲۳ آیات پر مشتمل ہے۔ اسکے کلمات کی تعداد ایک ہزار چھ سو اور حروف کی تعداد ۹۵۶۷ ہے۔
ہجرت سے کچھ عرصہ پہلے اس کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا۔ قرآن اس بات پر شاہد ہے کہ سورۃ یونس کے فوراً بعد یہ سورۃ نازل ہوئی۔ اسلامی دعوت کا یہ وہ نازک دور ہے جب سنگین مزاحمتوں کے باوجود اسلام کا نور کفر و شرک کے پختہ مورچوں کو سر کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا جس کے باعث کفار ومشرکین آتش زیرپا ہوگئے۔ اپنے ترکش جور و جفا کا ہر تیر آزمانے پر اُتر آئے۔ اسلام اور حضور رحمت عالم ا کے خلاف ان کی ہرزہ سرائی اور بہتان طرازی ، خست و کمینگی کی حد تک پہنچ چکی تھی ، نادار و بے بس مسلمانوں پر اُنھوں نے ظلم کی انتہا کردی ان حالات میں اس سورۃ کا نزول ہوتا ہے۔ (حوالہ جلد دوم ص ۳۳۷ تفسیر ضیاء القرآن)۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر صنے نبی ا سے عرض کیا…
’’میں دیکھتا ہوں کہ آپ ا پر بوڑھاپے کے آثار وارد ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے‘‘؟
جواب میں حضور انے فرمایا شَیَّبْنی ھود واخواتھا‘‘…
مجھ کو سورۂ ہود اور اس کی ہم مضمون سورتوں نے بوڑھا کردیا ۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی ا کیلئے وہ زمانہ کیسا سخت ہوگا جب کہ ایک طرف کفار قریش اپنے تمام ہتھیاروں سے اس دعوتِ حق کو کچل دینے کی کوشش کررہے تھے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے پے در پے آیات نازل ہورہی تھیں۔ ان حالات میں آپ ا کو ہر وقت یہ اندیشہ گھلائے دیتا ہوگا کہ کہیں اللہ کی دی ہوئی مہلت ختم نہ ہوجائے اور وہ آخری ساعت نہ آجائے جبکہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب میں پکڑ لینے کا فیصلہ فرمادیتا ہے۔ فی الواقع اس سورے کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک سیلاب کا بند ٹوٹنے کو ہے اور اس غافل آبادی کو ، جو اس سیلاب کی زد میں آنے والی ، آخری تنبیہ کی جارہی ہے۔ سورۃ یونس کی بہ نسبت یہاں دعوت مختصر ہے، فہمائش میں استدلال کم اور وعظ و نصیحت زیادہ ہے ، اور تنبیہ مفصل اور پرزور ہے۔
دعوت یہ ہے کہ پیغمبر کی بات مانو ، شرک سے باز آجاؤ ، سب کی بندگی چھوڑ کر اللہ کے بندے بنو اور اپنی دنیوی زندگی کا سارا نظام آخرت کی جواب دہی کے احساس پر قائم کرو ، فہمائش یہ ہے کہ حیات دنیا کے ظاہری پہلو پر اعتماد کرکے جن قوموں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت کو ٹھکرایا ہے وہ اس سے پہلے نہایت بُرا انجام دیکھ چکی ہیں، اب کیا ضرور ہے کہ تم بھی اسی راہ چلو جسے تاریخ کے مسلسل تجربات قطعی طور پر تباہی کی راہ ثابت کرچکے ہیں۔ تنبیہ یہ ہے کہ عذاب کے آنے میں جو تاخیر ہورہی ہے یہ دراصل ایک مہلت ہے جو اللہ اپنے فضل سے تمہیں عطا کررہا ہے۔ اس مہلت کے اندر اگر تم نہ سنبھلے تو وہ عذاب آئے گا جو کسی کے ٹالے نہ ٹل سکے گا اور اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت کو چھوڑ کر تمہاری ساری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹادے گا۔ اس مضمون کو ادا کرنے کے لئے براہِ راست خطاب کی بہ نسبت قوم نوح ، عاد ، ثمود ، قوم لوط ، اصحاب مدین اور قوم فرعون کے قصوں سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔ ان قصوں میں خاص طور پر جو بات نمایاں کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا جب فیصلہ چکانے پر آتا ہے تو پھر بالکل بے لاگ طریقہ سے چکاتا ہے۔ اس میں کسی کے ساتھ ذرہ برابر رعایت نہیں ہوتی۔
اس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کس کا عزیز ہے۔ رحمت صرف اس کے حصہ میں آتی ہے جو راہِ راست پر آگیا ہو ، ورنہ خدا کے غضب سے کوئی نہیں بچتا۔ یہی نہیں بلکہ جب ایمان و کفر کا دو ٹوک فیصلہ ہورہا ہو تو دین کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ خود مومن بھی باپ اور بیٹے اور شوہر اور بیوی کے رشتوں کو بھول جائے اور خدا کی شمشیر عدل کی طرح بالکل بے لاگ ہوکر ایک رشتۂ حق کے سوا ہر دوسرے رشتے کو کاٹ پھینکے ایسے موقع پر خون اور نسبت کی رشتہ داریوں کا ذرہ برابر لحاظ کر جانا اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ یہی وہ تعلیم تھی جس کا پورا پورا مظاہرہ تین چار سال بعد مکہ کے مہاجر مسلمانوں نے جنگ بدر میں کرکے دکھایا۔ (حوالہ تفہیم القرآن جلد دوم ص ۳۲۰ تا ۳۲۱)
انبیاء سابقین کی بعثت کیونکہ صرف ایک مخصوص حلقہ کے لئے اور ایک محدود وقت تک تھی۔ اس لئے ان کی تعلیمات بھی انھیں مقامی اور وقتی ضروریات کے مطابق تھیں لیکن مرشدِ اعظم اور ہادی اکمل ا جو تمام اقوام کیلئے اور قیامت تک کیلئے تشریف فرما ہوئے۔ آپ ا نے ہر معاشرہ کی اصلاح کرنا تھی اور بوقلموں (رنگا رنگ تعجب آمیز) حالات سے دوچار ہونا تھا۔ آپ ا کے مخاطب صحراؤں اور جنگلوں کے ناخواندہ عوام بھی تھے اور شہروں اور آبادیوں کے مقنن باشندے بھی۔ ملوکیت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے غلام بھی تھے۔ اور صنعت و حرفت میں اوج کمال تک پہنچے ہوئے لوگ بھی۔ دولت و ثروت کے خمار سے مخمور بھی اور اس مفلس و خستہ حال بھی۔ حضور کریم ا نے ان مختلف طبقوں میں پیدا ہونے والی متنوع غلط کاریوں کی اصلاح کرنا تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کی سیرتوں اور اپنے انبیاء پر ان کے اعتراضات اور دعوتِ حق کے مقابلہ میں ان کا ردعمل ایک ایک کرکے بیان فرمادیا تاکہ حضور کریم ا کو ان تمام احوال سے آگاہ کردیا جائے جن سے حضورا کو دوچار ہونا تھا۔ تاکہ کوئی بات خلاف توقع نہ ہو اور کوئی ردعمل باعث حیرت و استعجاب نہ بنے۔
ان تمام اُمور کو اس سورۃ مبارکہ میں بڑے دلنشین اسلوب میںبیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم ا کو حکم دیتے ہیں…
’’فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتُ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ‘‘
آپ اور آپ کے ساتھی حکم الٰہی کو بجا لانے کے لئے حالات کی سنگینی اور ماحول کی ناسازگاری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مستعد اور ثابت قدم رہیں۔
اور پھر یہ بھی فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کے واقعات بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہیکہ ’’نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ‘‘ -آپ کے دل کو ثبات و قرار نصیب ہو۔ آپ عبادت الٰہی میں سرگرم رہیں اور اسکی تائید و نصرت کے سامنے دشمنان اسلام کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا اور فتح و نصرت آپ ا کے قدم چومے گی۔ (حوالہ ضیاء القرآن)

Check Also

قرآنی تعارف: سورۂ اعراف

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامیسینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد سورۃ الاعراف مکی سورتوں میں شامل …