Best Offer

قرآنی تعارف: سورۂ توبہ (مدنی)

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامی
سینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد

سورۃ توبہ مدنیہ ہے مگر اس کے آخر کی آیتیں ’’لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ‘‘سے آخر تک کو بعض علماء مکی کہتے ہیں۔ اس سورت میں ۱۶ رکوع ۱۲۹ آیتیں ۴۰۷۸ کلمے اور ۱۰۴۸۸ حروف ہیں۔ اس سورت کے دس نام ہیں، ان میں سے توبہ اور برأت مشہور ہیں۔ اس سورت کے اول میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی ، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جبریل ںاس سورت کے ساتھ بسم اللہ لے کر نازل نہیں ہوئے تھے اور نبی کریم ا نے بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔ حضرت علی مرتضیٰ سے مروی ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور یہ سورت تلوار کے ساتھ امن اُٹھادینے کیلئے نازل ہوئی اس لئے اس کے آغاز پر بسم اللہ نہیں لکھی گئی۔ بخاری نے حضرت براء سے روایت کیا کہ قرآن کریم کی سورتوں میں سب سے آخر یہی سورت نازل ہوئی (کنزالایمان) ۔
جس سلسلہ واقعات سے اس (سورۃ توبہ) کے مضامین کا تعلق ہے اس کی ابتداء صلح حدیبیہ سے ہوتی ہے۔ حدیبیہ تک چھ سال کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ اس شکل میں رونما ہوچکا تھا کہ عرب کے تقریباً ایک تہائی حصہ میں اسلام ایک منظم سوسائٹی کا دین ، ایک مکمل تہذیب و تمدن اور ایک کامل بااختیار ریاست بن گیا ، حدیبیہ کی صلح جب واقع ہوئی تو اس دین کو یہ موقع بھی حاصل ہوگیا کہ اپنے اثرات نسبتاً زیادہ امن و اطمینان کے ماحول میں ہر چہار طرف پھیلا سکے۔ اس کے بعد واقعات کی رفتار نے دو راستے اختیار کئے جو آگے چل کر نہایت اہم نتائج پر مبنی ہوئے۔ ان میں سے ایک کا تعلق عرب سے تھا اور دوسرے کا سلطنتِ روم سے۔ عرب میں حدیبیہ کے بعد دعوت و تبلیغ اور استحکام قوت کی جو تدبیریں اختیار کی گئیں ان کی بدولت دو سال کے اندر ہی اسلام کا دائرۂ اثر اتنا پھیل گیا اور اس کی طاقت اتنی زبردست ہوگئی کہ پرانی جاہلیت اس کے مقابلہ میں بے بس ہوکر رہ گئی۔ آخرکار جب قریش کے زیادہ پُرجوش عناصر نے بازی کو ہارتے ہوئے دیکھا تو اِنھیں یارائے ضبط نہ رہا اور اُنھوں نے حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ وہ اس بندش سے آزاد ہوکر اسلام سے آخری فیصلہ کن مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن نبی کریم ا نے ان کی اس عہد شکنی کے بعد ان کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہ دیا اور اچانک مکہ پر حملہ کرکے رمضان ۸ ھ میں فتح کرلیا۔
اس کے بعد قدیم جاہلی نظام نے آخری حرکت ’’حنین‘‘ کے میدان میں کی جہاں ’’ہوازن‘‘ ، ’’ثقیف‘‘ ، ’’نضر‘‘ ، جثم‘‘ اور بعض دوسرے جاہلیت پرست قبائل نے اپنی ساری طاقت جھونک دی تاکہ اس اصلاحی انقلاب کو روکیں جو فتح مکہ کے بعد تکمیل کے مرحلے پر پہنچ چکا تھا۔ لیکن یہ کوشش بھی ناکام ہوئی اور حنین کی شکست کے ساتھ عرب کی قسمت کا قطعی فیصلہ ہوگیا کہ اسے دارالسلام بن کر رہنا ہے۔ اس واقعہ پر پورا ایک سال بھی نہ گذر پایا کہ عرب کا بیشتر حصہ اسلام کے دائرے میں داخل ہوگیا اور نظام جاہلیت کے صرف چند پراگندہ عناصر ملک کے مختلف گوشوں میں باقی رہ گئے۔ اس نتیجہ میں حد کمال تک پہنچنے میں ان واقعات سے اور زیادہ مدد ملی جو شمال میں سلطنتِ روم کی سرحد پر اسی زمانہ میں پیش آرہے تھے ، وہاں جس جرأت کے ساتھ نبی کریم ا ۳ ہزار کا زبردست لشکر لے کر گئے اور رومیوں نے آپ ا کے مقابلہ پر آنے سے پہلوتہی کرکے جو کمزوری دکھائی اس نے تمام عرب پر آپ ا کی اور آپ ا کے دین کی دھاگ بٹھادی اور اس کا ثمرہ اس صورت میں ظاہر ہوا کہ تبوک سے واپس آتے ہی حضور ا کے پاس عرب کے گوشے گوشے سے وفد پر وفد آنے شروع ہوگئے اور وہ اسلام و اطاعت کا اقرار کرنے لگے۔ چنانچہ اسی کیفیت کو قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ :
اِذَا جَآئَ نَصْرُ اﷲِ وَالفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اﷲِ اَفوَاجًا
’’اور جب اللہ کی مدد آگئی اور فتح نصیب ہوئی اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہورہے ہیں‘‘۔ (تفہیم القرآن جلد دوم)
دوسرے بادشاہوں کی طرح حضور ا نے بُصریٰ کے حاکم ’’شُرجیل‘‘ کی طرف بھی دعوت اسلام دینے کیلئے اپنا مکتوب اپنے قاصد کے ساتھ روانہ کیا۔ لیکن شُرجیل نے اسے قتل کردیا۔ ذات الطلح کے باشندے مدینہ طیبہ سے پندرہ مسلمانوں کو اپنے ہمراہ اس غرض سے لے آئے کہ وہ انھیں دین اسلام سکھائیں گے لیکن اُنھوں نے بھی عذر کیا اور مسلمانوں کو سوائے ایک کے شہید کردیا۔ حضور نبی کریم انے ان شہداء کا انتقام لینے کیلئے تین ہزار کی جمعیت حضرت زیدؓ بن حارثہ کی قیادت میں روانہ فرمائی۔ شرجیل ایک لاکھ فوج لے کر مقابلہ کے لئے بڑھا۔ اور ہرقل کا بھائی تھیوڈور بھی ایک لاکھ کا لشکر جرار لے کر اس کی امداد کو آپہنچا۔ اب تین ہزار مجاہدین کے سامنے دو لاکھ فوج صف بستہ تھی۔ مسلمان بھی کب ٹلنے والے تھے۔ جنگ شروع ہوئی یکے بعد دیگرے تین مسلمان جرنیلوں زید بن ثابت ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ثنے جام شہادت نوش کیا۔ ان کے بعد حضرت خالدؓ نے آگے بڑھ کر اسلام کا جھنڈا تھاما اور اس بے جگری اور جانبازی سے اپنے سے چھیاسٹھ گنا فوج کا مقابلہ کیا کہ ان کے دانت کھٹے کردیئے۔ اب ہرقل کی آنکھیں کھلیں کہ عرب کے جن صحر نوردوں کو وہ خاطر میں نہیں لایا کرتا تھا ان کے بازو اتنے مضبوط اور ان کی تلواریں اتنی تیز ہیں کہ اس کی دو لاکھ فوج بھی انھیں شکست نہ دے سکی۔ انہی دنوں میں یہ واقعہ بھی ظہور پذیر ہوا کہ ہرقل کی عرب فوج کا ایک اعلیٰ افسر فروہ بن عمرو جذامی مشرف بہ اسلام ہوگیا۔ ہرقل نے اسے اپنے دربار میں طلب کیا اور اسے کہا کہ یا تو اس نئے دین (دین اسلام) سے تائب ہوکر اپنا سابقہ مذہب (عیسائیت) اختیار کر ورنہ تیرا سر قلم کردیا جائے گا۔ اس نے بڑی خوشی سے جان دیدی لیکن اپنے ایمان سے دستکش ہونا گوارا نہ کیا۔ ان واقعات نے ہرقل کو چوکنا کردیا اور اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ آج ہی مسلمانوں کی ہر لحظہ بڑھتی ہوئی قوت کو کچل دے گا۔ چنانچہ اس نے زور و شور سے جنگ کی تیاری شروع کردی اور خود بڑھ کر مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے پر تولنے لگا۔ (حضور نبی کریم اکی نگاہِ دور بین ، ہرقل کی اس فتنہ و فساد کی باتوں تک جا پہنچی) ۔ چنانچہ حضور ا نے بھی شام پر چڑھائی کا عزم فرمالیا۔
صحابہث فرماتے ہیں جب جہاد پر جانے کا حکم ہوا تو شدت کی گرمی تھی ، باغات میں کھجوریں پک رہی تھیں ، کھجوریں کھانے ، ٹھنڈا پانی پینے ، گھنے سایہ میں بیٹھنے اور آرام کرنے کے دن تھے۔ جب جنگ کی تیاری حکم ہوا تو مردانِ وفا کیش تو بلا تامل تعمیل حکم کیلئے حاضر ہوگئے۔ اور ہر ایک نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مالی امداد بھی کی۔ عورتوں نے اپنے کانوں کی بالیاں اور گلے کے ہار تک اُتار کر پیش کردیئے۔ حضرت عثمان ص اور حضرت عبدالرحمن بن عوفص نے ہزارہا اشرفیاں لاکر قدموں میں ڈھیر کردیئے۔ حضرت صدیق اکبرص نے اپنی عمر بھر کا اندوختہ اُٹھاکر بارگاہِ نبوت میں حاضر کردیا۔ لیکن ان سرفروشوں اور جانثاروں کے علاوہ کئی اور عناصر بھی تھے۔ ایک عنصر منافقین کا تھا وہ بھلا کب تک ان زخموں اور صعوبتوں کو گوارا کرنے والے تھے۔ طرح طرح کے جھوٹے اور بے سروپا بہانے پیش کرتے اور حضور ا ان سے صرف نظر کرلیتے۔ یہ لوگ اور دوسرے مشرک دل ہی دل میں بڑے خوش تھے۔ انھیں یقین تھا کہ مسلمان اب بچ کر واپس نہیں آئیں گے بلکہ قیصر کی افواج قاہرہ انھیں کاٹ کر رکھ دیں گی اور اس طرح اسلام کا چراغ بجھ جائے گا۔ ان کی ساری اُمیدیں اب اس جنگ پر مرکوز ہوکر رہ گئی تھیں۔ آخر تیس ہزار کا یہ لشکر اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول ا کی قیادت میں اپنے مولائے کریم کا نام بلند کرنے کیلئے اور اسلام کی عظمت کا جھنڈا گاڑنے کیلئے موسم کی ناسازگاری کے باوجود بڑھتا چلا گیا اور تبوک کے مقام پر جاکر خیمہ زن ہوا۔ (ضیاء القرآن)
قیصر کو جب اطلاع ہوئی کہ جن کو مٹانے کیلئے ہم پوری تیاری کررہے تھے وہ خود ہمارے ملک اور ہماری سرزمین پر ہمیں للکارنے آچکے۔ ان حالات میں قیصر نے اس چیز میں مصلحت جانی کہ اپنی فوجوں کو سرحد سے ہٹائے اور فوج کو اپنے شہر میں قلعہ بند کردے۔ نبی کریم ا نے اس طرح بیس روز تک وہاں قیام فرمایا اور اس عرصہ میں ارد کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنا باج گذار بنایا ، چنانچہ جربا اذرح اور عمان کے لوگوں نے جزیہ دینے پر صلح کی۔ ایلہ کا عیسائی حکمراں یوحنا دربار سالت ا میں آکر صلح کا خواہاں ہوا اور تین سو دینار سالانہ ادا کرنے پر مصالحت کی۔ علاوہ ازیں ارد گرد جتنے قبائل تھے یا تو مسلمان ہوگئے یا باج گذار۔ اس طرح عرب کی یہ سرحد دشمن کی یلغار سے محفوظ ہوگئی اور دوسری طرف قیصر کی یہ خام خیالی بھی دور ہوگئی کہ مسلمان ایک تر نوالہ ہیں اور تمام عرب قبائل پر مسلمانوں کی اچھی دھاک بیٹھ گئی۔ اب رہے منافقین اور اسلام کے بدخواہ ان کی تو آرزوؤں پر پانی پھر گیا۔ غزوۂ تبوک کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا جو اپنی اہمیت میں کسی سے کم نہیں کہ منافقین بے نقاب ہوگئے اور جو مراعات ان کے ساتھ پہلے روا رکھی جاتی تھیں ان سے وہ محروم کردیئے گئے۔
دوسر ا اہم واقعہ جو اس سورۃ توبہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ وہ مشرکین اور کفار کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی تنسیخ ہے۔ حضور رحمت اللعالمین ا نے ہمیشہ کوشش فرمائی کہ تمام غیر مسلموں کے ساتھ صلح و سلامتی سے رہیں۔ اسی مقصد کیلئے ان کے ساتھ صلح کے معاہدے کئے گئے۔ لیکن فریق ثانی نے ان کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور جب کبھی موقع ملا عہد شکنی کردی۔ اسی سال میں ماہ ذی قعد میں مسلمانوں کا ایک قافلہ حج کے لئے روانہ ہوا۔ امیرالحج حضرت صدیق اکبر ص تھے۔ اس قافلہ کی روانگی کے بعد اس سورۃ کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں کیونکہ مجمع عام میں ان کا اعلان کرنا ضروری تھا اور حج کے موقع پر عرب کے اطراف و اکناف سے لوگ جمع ہونے والے تھے اس لئے حضور ا نے حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو پیچھے روانہ فرمایا تاکہ حج کے روز یہ اعلان عام کردیا جائے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ تمام کفار سے کئے گئے معاہدوں کی تنسیخ نہیں کی جارہی بلکہ ان قوموں کے معاہدوں کی تنسیخ کا اعلان کیا جارہا ہے جنھوں نے پہلے عہد شکنی کی تھی۔ چنانچہ آیت ۴ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
اب عرب کے طول و عرض میں اسلام کا پرچم لہرارہا تھا تو ضروری تھا کہ کعبۂ مقدس سے کفار کی تولیت ختم کردی جائے اور اہل ایمان کو اس کا متولی بنایا جائے۔ چنانچہ یہ حکم بھی فرمادیا کہ آج کے بعد مسلمان ہی کعبہ اور مسجد حرام کی خدمت انجام دیا کریں گے۔ (حوالہ تفسیر ضیاء القرآن)
سورۃ کے ختم پر اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد ا کا تعارف بڑے ہی انوکھے انداز میں فرمارہے ہیں اور ان نادان لوگوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ تم لوگوں نے اب تک جس پاکیزہ و مبارک شخصیت کی مخالفت کرتے چلے آئے ہو یہ کوئی معمولی شخصیت نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے ہی لئے ایک رحمت ہیں ، ایک شفقت ہیں اور آپ ا کا حال تو یہ ہے کہ تمہاری فلاح و کامیابی کے لئے ہر وقت بے قرار رہتے ہیں اور تمہارا نقصان میں پڑجانا آپ ا پر گراں گذرتا ہے۔

Check Also

قرآنی تعارف: سورۂ اعراف

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامیسینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد سورۃ الاعراف مکی سورتوں میں شامل …