Best Offer

قرآنی تعارف: سورۂ انفال

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامی
سینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد

سورۃ الانفال مدنی سورتوں میں شامل ہے۔ اس میں ۷۵ آیات اور دس رکوع آئے ہیں۔ اس سورہ کا نام ’’انفال‘‘ ہے کیوں کہ اس کا آغاز ’’انفال‘‘ (اموال غنیمت) کے احکام بیان کرنے سے ہوا ہے لیکن اس میں صرف اموال غنیمت کا بیان ہی نہیں بلکہ یہ سورہ ’’جنگ بدر‘‘ ۲ ھ کے بعد نازل ہوئی اور اس میں ’’جنگ بدر‘‘ (جس میںاہل ایمان کو فتح حاصل ہوئی) پر مفصل تبصرہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہجرت کے بعد سے لے کر جنگ بدر کے واقعہ ہونے تک کے واقعات کا مطالعہ ، مذکورہ سورہ کو سمجھنے میں معاون ومددگار رہے گا۔ کفار قریش خاتم النّبیین حضرت محمد ا اور آپ کے دست حق پرست ایمان لانے والے صحابہ کرامث کو بہت ستانے لگے اور مکہ میں رہنا اہل ایمان کیلئے دشوار ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ایک بہترین انتظام فرمادیا۔ وہ تھا مدینہ منورہ جسے سابق میں یثرب کہا جاتا تھا۔ محترم مفسرین کرام نے اس سورہ کے تاریخی پس منظر اور تعارف میں جو تحریر فرمایا ہے اس کے اقتباسات قارئین کے پیش خدمت ہے۔
’’مکی دور کے آخری تین چار سالوں سے یثرب میں آفتاب اسلام کی شعائیں مسلسل پہنچ رہی تھیں اور وہاں کے لوگ متعدد وجوہ سے عرب کے دوسرے قبیلوں کی بہ نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ اس روشنی کو قبول کرتے جارہے تھے۔ آخرکار نبوت کے بارہویں سال حج کے موقع پر ۷۵ نفوس کا ایک وفد نبی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رات کی تاریکی میں ملا اور اس نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ آپ ا کو اور آپ کے پیروؤں کو اپنے شہر میں جگہ دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ یہ اسلام کی تاریخ میں ایک انقلابی موقع تھا جسے خدا تعالیٰ نے اپنی عنایت سے فراہم کیا اور حضرت نبی انے ہاتھ بڑھاکر پکڑ لیا۔ اہل یثرب نبی اکو خدا تعالیٰ کے نائب اور اپنے امام و فرمان روا کی حیثیت سے بلارہے تھے اور اسلام کے پیروؤں کو ان کا بلاوا اس لئے نہ تھا کہ وہ ایک اجنبی سرزمین میں محض مہاجر ہونے کی حیثیت سے جگہ پالیں بلکہ مقصد یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل اور خطوں میں جو مسلمان منتشر ہیں وہ یثرب میں جمع ہوکر اور یثربی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک منظم معاشرہ بنالیں۔ اس طرح یثرب نے دراصل اپنے آپ کو ’’مدینۃ الاسلام‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا اور نبی ا نے اسے قبول کرکے عرب میں پہلا ’’دارالاسلام‘‘ بنالیا۔اس پیش کش کے معنی جو کچھ تھے اس سے اہل مدینہ ناواقف نہ تھے ، اسکے صاف معنی یہ تھے کہ ایک چھوٹا سا قصبہ اپنے آپ کو پورے ملک کی تلواروں اور معاشی و تمدنی بائیکاٹ کے مقابلہ میں پیش کررہا تھا۔ چنانچہ ’’بیعت عقبہ‘‘ کے موقع پر اس مجلس میں اسلام کے اولین مددگاروں (انصار) نے اس نتیجہ کو خوب اچھی طرح جان بوجھ کر نبی اکے ہاتھ میں ہاتھ دیا تھا۔ جسے تاریخ میں بیعت عقبہ ثانیہ کہتے ہیں۔ جس رات بیعت عقبہ واقع ہوئی اسی رات اس معاملہ کی بھنک اہل مکہ کے کانوں میں پڑی اور پڑتے ہی کھلبلی مچ گئی۔ پہلے تو اُنھوں نے اہل مدینہ کو نبی اسے توڑنے کی کوشش کی۔ پھر جب مسلمان ایک ایک دو دو کرکے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے اور قریش کو یقین ہوگیا کہ اب محمد ا بھی وہاں منتقل ہوجائیں گے تو وہ اس خطرہ کو روکنے کیلئے آخری چارہ کار اختیار کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ ہجرت نبوی سے چند ہی روز پہلے قریش کی مجلس شوریٰ منعقد ہوئی جس میں بڑی رد و کد کے بعد آخرکار یہ طے پا گیا کہ بنی ہاشم کے سوا تمام خانوادہ ہائے قریش کا ایک ایک آدمی چھانٹا جائے اور یہ سب لوگ مل کر حضرت محمد ا کو قتل کریں تاکہ بنی ہاشم کیلئے تمام خاندانوں سے تنہا لڑنا مشکل ہوجائے اور وہ انتقام کے بجائے خون بہا قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں لیکن خداکے فضل اور نبی اکے اعتماد علی اللہ اور حسن تدبیر سے اُن کی یہ چال ناکام ہوگئی اور حضور ابخیریت مدینہ پہنچ گئے۔ اس طرح جب قریش کو ہجرت کے روکنے میں ناکامی ہوئی تو اُنھوں نے مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابی کو (جسے ہجرت سے پہلے اہل مدینہ اپنا بادشاہ بنانے کی تیاری کرچکے تھے اور جس کی تمناؤں پر حضور اکے مدینہ پہنچ جانے اور اَوس و خَزرج کی اکثریت مسلمان ہوجانے سے پانی پھر چکا تھا) خط لکھا کہ ’’تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو اپنے ہاں پناہ دی ہے ، ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ یا تو تم خود ان سے لڑو یا انہیں نکال دو ، ورنہ ہم سب تم پر حملہ آور ہوں گے اور تمہارے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیں گے‘‘۔ عبداللہ بن ابی اس پر کچھ آمادہ شر ہوا مگر حضور اقدس انے بروقت اس کے شر کی روک تھام فرمادی۔
پھر سعد بن معاذ رئیس مدینہ عمرہ کے لئے مکہ گئے۔ وہاں عین حرم کے دروازے پر ابوجہل نے ان کو ٹوک کر کہا۔
’’تم تو ہمارے دین کے مرتدوں کو پناہ دو اور ان کی امداد و اعانت کا دم بھرو اور ہم تمہیں اطمینان سے مکہ میں طواف کرنے دیں ؟ اگر تم اُمیہ بن خلف کے مہمان نہ ہوتے تو زندہ یہاں سے نہیں جاسکتے تھے‘‘۔
سعد نے جواب میں کہا ’’بخدا اگر تم نے مجھے اس چیز سے روکا تو میں تمہیں اس چیز سے روک دوں گا جو تمہارے لئے اس سے شدید تر ہے (یعنی مدینہ پر سے تمہاری رہ گزر) یہ گویا اہل مکہ کی طرف سے اس بات کا اعلان تھا کہ زیارت بیت اللہ کی راہ مسلمانوں پر بندہے اور اس کا جواب اہل مدینہ کی طرف سے یہ تھا کہ شامی تجارت کا راستہ مخالفین اسلام کے لئے پُرخطر ہے۔ (اقتباسات تفہیم القرآن جلد دوم ص ۱۱۸ تا ۱۲۱)
ہجرت کا دوسرا سال تھا اور شعبان کا مہینہ تھا (فروری یا مارچ ۶۲۳ ء) جب ابو سفیان کی قیادت میں اہل مکہ کا ایک تجارتی کاروان جس میں پچاس ہزار پاؤنڈ کی مالیت کا سامان تھا ، شام سے مکہ کی طرف لوٹ رہاتھا۔ اس کے ساتھ محافظ دستہ کی تعداد بہت کم تھی۔ اس خوف سے کہ کہیں مسلمان اس کاروان کی اطلاع پاکر اس پر حملہ نہ کردیں، ابو سفیان نے ضمضم بن عمرو الغفاری کو اُجرت دی اور اسے دوڑایا کہ جاکر اہل مکہ کو اطلاع دے کہ وہ اس قافلہ کو مسلمانوں کی دست بُرد سے بچانے کیلئے نکلیں۔ جب وہ مکہ پہنچا تو (جاہلیت کے طریقہ کے مطابق اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے) زور زور سے چلاّنا شروع کردیا (جھوٹ سے کام لیتے ہوئے کہا) ’’اے گروہ قریش ! تمہارا مال و اسباب تمہارا ساز و سامان تمہارے اموال جو ابو سفیان کے قافلے میں تھے ان پر محمد (ا) نے اپنے یاروں سمیت حملہ کردیا ہے۔ میں نہیں خیال کرتا کہ تم اس کی حفاظت کرسکو گے فریاد کو پہنچو فریاد کو پہنچو‘‘۔
یہ سنتے ہی ابوجہل نے لوگوں کو جنگ ہر اُبھارنا شروع کردیا۔ مکہ کے ہر گھر سے آدمی جنگ کیلئے آمادہ ہوگئے اور تھوڑی دیر میں ایک ہزار آزمودہ کار سپاہیوں کا لشکر جرار تیار ہوگیا۔ اس طرح بڑے کر و فر سے یہ لشکر اپنے قافلے کی حفاظت کے لئے نکلا لیکن راستے میں ہی یہ اطلاع ملی کہ قافلہ صحیح سلامت مسلمانوں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ لہٰذا اس قافلے میں شامل کئی لوگوں نے یہ رائے دی کہ ہم جس مقصد کیلئے نکل پڑے تھے اس میں ہم کامیاب ہوگئے۔ لہٰذا ہمیں مکہ واپس چلے جانا چاہئے لیکن بشمول ابوجہل اکثریت کا یہ ارادہ تھا کہ مسلمانوں کی اس مختصر جمعیت کو آج ہی ٹھکانے لگادیا جائے تاکہ ان کا مذہب اور ان کی تجارتی شاہ راہ جو اِن کی رگِ حیات ہے اس مہیب خطرہ سے ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجائے اور اس کے ارد گرد بسنے والے قبائیل بھی اتنے ہراساں اور خوفزدہ ہوجائیں کہ وہ ان کی طرف آنکھ اُٹھانے کی جرأت بھی نہ کرسکیں۔
اب مسلمانوں کے مد مقابل وہ تجارتی قافلہ نہ تھا جس کے محافظوں کی تعداد تیس چالیس کے لگ بھگ تھی بلکہ جنگجو اور تجربہ کار بہادروں کا ایک لشکر عظیم تھا جس کی قیادت مکہ کا مشہور سردار ابوجہل کررہا تھا جو تعداد میں مسلمانوں کی اس مختصر جماعت سے تین گنا تھا اور اسلحہ میں مسلمانوں کو ان سے کوئی نسبت ہی نہ تھی۔ (یعنی مسلمانوں کی تعداد ۳۱۳ اور سامان حرب انتہائی کم)۔
رمضان کی ۱۷ تاریخ تھی اور جمعہ کا دن تھا۔ وادیٔ بدر میں حق و باطل کی جنگ ہوئی اور اللہ نے بے سرو سامانی کے باوجود مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور باطل جوکہ اپنی پوری قوت و جبروت سے مسلح ہوکر حق کو کچلنے نکلا تھا ، حق سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا۔
یہ ہے جنگ بدر کا سیاسی اور تاریخی پس منظر جس کے متعلق اس سورہ میں گفتگو فرمائی گئی۔ نیز اس میں مسلمانوں کو ان کی اپنی کوتاہیوں پر بھی آگاہ کردیا تاکہ وہ اپنی پہلی فرصت میں ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور یہ بھی واضح کردیا کہ یہ فتح و کامرانی محض اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا نتیجہ ہے۔ اس لئے اس کی اور اس کے رسول کریم ا کی اطاعت میں کوشاں رہو تاکہ تائید غیبی ہمیشہ ہمیشہ تمہارے شامل حال رہے۔
ایسا نہ ہو کہ تم اپنی بہادری اور شجاعت پر مغرور ہوکر احکام الٰہی اور ارشادات مصطفوی ا سے سرتابی کرنے لگو۔ مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بھی واضح طور پر بیان کردیا تاکہ اس کے متعلق بھی کسی قسم کا تنازعہ پیدا نہ ہو۔اس کے ضمن میں صلح و جنگ کے متعلق معاہدوں کی پابندی کا حکم بھی فرمایا تاکہ یہ اُمت جس کے نبی کی بعثت کی ایک بڑی غرض مکارم اخلاق کی تکمیل ہے وہ صلح و جنگ ہر حالت میں ان مکارم اخلاق کی علمبردار ہو۔ سورہ کے آخری حصہ میں حضور کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے صحابہ کرام کی شان بھی بیان فرمادی جن کی سرفروشیوں ، قربانیوں ، جانبازیوں ، پیہم جدوجہد اور مسلسل سعی و عمل سے دین اسلام کو کامیابی اور عروج نصیب ہوا تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں ان اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا رہ کر اسی اخلاص، اسی للہیت ، اسی ایثار اور اسی جانفروشی سے پرچم اسلام کو بلند سے بلند تر کرنے کیلئے ہمہ تن مصروف جہاد ہیں۔ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُوْمِنُوْنَ حَقًّا (یہی لوگ سچے ایماندار ہیں) ۔ (اقتباسات و استفادہ ، تفسیر ضیاء القرآن جلد دوم ص ۱۲۵ تا ۱۲۷ حضرت مولانا پیر محمد کرم شاہ صاحبؒ)

Check Also

قرآنی تعارف: سورۂ اعراف

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامیسینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد سورۃ الاعراف مکی سورتوں میں شامل …