Best Offer

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

نتیجہ فکر: جمال قدوسی، اٹوابازار سدھارتھ نگر

تذکرہ ان کا چھڑا عرش سے برسی خوشبو
بزمِ عالم میں ہر اک سمت ہے کتنی خوشبو
گل ہی عنبر ہی نہیں مشکِ ختن شرمائے
جسمِ اطہر کے پسینے میں ہے ایسی خوشبو
اک زباں ہی نہیں محفل بھی مہک اٹھتی ہے
نامِ احمد میں محمد میں ہے اتنی خوشبو
یہ تو سردارِ دو عالم کی ہے صحبت کا اثر
آج بھی غارِ حرا میں ہے برستی خوشبو
پھر یہ صدیق ہیں فاروق و غنی،حیدر ہیں
جب ملی ان کو دبستانِ نبی کی خوشبو
باغِ دنیا میں کہاں ایسی ہے نکہت اے جمال
گلشنِ ساقئ کوثر میں ہے جتنی خوشبو