Best Offer

مبارک ہو مسلمانو! کہ پھر ماہِ صیام آیا

تحریر: عبدالمنعم فاروقی
[email protected]
9849270160

ماہِ رمضان المبارک وہ مقدس ترین مہینہ ہے کہ جس کی آمد کا ہر صاحب ایمان کو بے چینی سے انتظار رہتا ہے ،تولیجئے انتظار گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں اور وہ ہمارے درمیان آنے کیلئے بالکل تیار ہے ، صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں، ماہِ مبارک آتے ہوئے اپنے ساتھ ہر صاحب ایمان کیلئے خوشیوں کی سوغات اور رحمتوں کی فصل بہار لاتا ہے ،وہ جیسے ہی ہماری زندگیوں میں داخل ہوتا ہے کسی شفیق کی طرح اپنے آغوش رحمت میں ہم کو ڈھانپ لیتا ہے ، اس ماہ میں خدا کی طرف سے مسلسل رحمت کی ہوائیں چلتی رہتی ہیں ا وربرکت کی بارشیں برستی رہتی ہیں ، یہی وہ افضل ترین مہینہ ہے کہ جس کی ہر ساعت مبارک اور جس کا ہر لمحہ رحمتوں کا خزانہ ہے ،اس کو دوسرے مہینوں پر ایسے ہی فوقیت حاصل ہے جیسے ستاروں کے بیچ چاند کو ہے ،یہی وہ ماہ ِ محترم ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمتوں ،برکتوں ،عنایتوں اور نوازشوں کے دروازے کھول دیتے ہیں، بندوں کے معمولی اعمال پر نظر رحمت ڈال کر اسے غیر معمولی بناتے ہیں ،نفل پر فرض اور فرض پر ستر فرضوں کا ثواب دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خود جناب رسول اللہ ﷺ اس مبارک ماہ کابڑی بے چینی اور شدت کے ساتھ انتظار فرمایا کرتے تھے اور اپنے اصحاب کو رمضان کیلئے شعبان کے دن گننے کا حکم دیتے تھے ، جس وقت آپ ﷺماہِ رجب المرجب کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرما تے اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان (شعب الایمان للبیہقی ۳۵۳۴) اے اللہ ماہِ رجب وشعبان میں برکت عطا فرمائیے اور ہم کو رمضان میں پہنچا دیجئے ۔آپ ﷺ ماہِ رجب المرجب سے ہی ماہِ مبارک رمضان کی تیاریوں کا آغاز فرمادیا کرتے تھے ، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی مہینہ میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا (بخاری ح ۱۲۳۴) آپ ﷺ کا شعبان کے مہینہ میں کثرت سے روزے رکھنا درحقیقت رمضان المبارک کی خصوصی عبادتوں کے ساتھ مناسبت پیدا کرنے اور اس میں مزید حسن وکمال پیدا کرنے کیلئے ہوا کرتا تھا ۔ رجب کے بعد شعبان المعظم کے اختتام پر آپ ﷺ نے صحابۂ کرام ؓ کو جمع فرما یا اور ایک جامع ترین خطبہ دیا جس میں رمضان المبارک کی فضیلت ،اہمیت اور اس میں عبادات پر خدا کی طرف سے بے حساب اجر وثواب کی خوشخبری سنا ئی ،ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے ، اس مبارک مہینہ کی ایک رات ( شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اس مہینے کے روزے اللہ تعالی نے فرض فرمائے ہیں اوراس کی راتوں میں بار گاہ ِ خدا وندی میں کھڑے ہونے ( یعنی نماز تراویح پڑھنے ) کو نفل عبادت مقرر کیا ہے ( جس کا بہت بڑا ثواب رکھا گیا ہے ) جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کر نے کی غرض سے کوئی غیر فرض عبادت ( یعنی سنت ونفل ) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر ثواب دیا جائے گا اوراس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانہ کے ستر فرضوں کے برابر ملے گا ،یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ،یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ،جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو ( اللہ کی رضا اور ثواب کے حصول کی نیت سے ) افطار کرایا تو اس کیلئے گناہوں کی مغفرت اور نار جہنم سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ داروں کے برابر ثواب دیا جائے گا ، اور روزہ دار کے ثواب میں کمی بھی نہ ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ا سے عرض کیا گیا کہ :یا رسول اللہ ا ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا ( تو کیا غربا ء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے ؟) آپ ا نے فرمایا کہ : اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کو بھی دیں گے جو تھوڑی سی لسی سے یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ سے کسی روزہ دار کو افطار کرادے ( پھر آپ ا نے مزید یہ بات ارشاد فرمائی کہ )اور جو کوئی روزہ دار کو پورا کھا نا کھلادے اس کو اللہ تعا لی میرے حوض ( حوض کوثر ) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا ۔۔۔۔۔( اس کے بعد مزید یہ ارشاد فرمایا کہ)اس ماہِ مبارک کا پہلا حصہ رحمت ، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ دوزخ کی آگ سے آزادی ہے ( اس کے بعد پھر فرمایا کہ ) جو کوئی اس مہینے میں اپنے غلام وخادم کے کام میں تخفیف کرے گا اللہ تعا لی اس کی مغفرت فرمادیں گے اوراس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دلادیں گے ۔ ( مشکوۃ ،کتاب الصوم ،حدیث :۱۹۶۵) ۔
آپ ا نے اس عظیم الشان اور نہایت اہم خطبہ میں رمضان المبارک کے سلسلہ میں جواہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں یقینا وہ ہر صاحب ِ ایمان کیلئے نسخہ ٔ اکسیر کا درجہ رکھتی ہیں، مسلمانوں کو چاہئے کہ ان نبوی ہدایات کو بار بار پڑھیں اور اس کے مطابق رمضان المبارک گذار نے کی کوشش کریں ۔رمضان المبارک غیر معمولی فضیلت والا مہینہ ہے ،یہی وہ ماہ ہے جس کے استقبال کیلئے پورے سال جنت کو سجایا اور آراستہ کیا جاتا ہے آپ ﷺ نے جنت کے حسن وخوبصورتی میں مزید اضافہ کئے جانے کے کا نقشہ اس طرح پیش فرمایا ہے :رمضان کیلئے جنت کوشروع سال سے سجایا جاتا ہے،پھر جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو ایک مخصوص ہوا عرش ِ رحمن کے نیچے سے جنت کے درخت کے پتوں سے گذر تی ہوئی خوبصورت آنکھوں والی حوروں تک پہنچتی ہیں تو وہ عرض کرنے لگتی ہیں ’’اے پروردگار !ہمارے لئے اپنے بندوں میں سے ایسے جوڑے منتخب فرما جن سے ہماری آنکھوںکو ٹھنڈک نصیب ہو اور ان کی آنکھوں کو ہمارے ذریعہ سے چین حاصل ہو‘‘(مشکوۃ ج۱؍۱۷۴)۔ رمضان المبارک جیسے ہی شروع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں کی بارشیں نازل ہو نے لگتی ہیں ،برکتوں کی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور بندوں پر نوازشات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ،حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو سرکش وبدمعاش قسم کے شیاطین زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ میں بند کردئے جاتے ہیں ،جہنم کے دروازے بند اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اورایک منادی آواز لگا تا ہے کہ ائے خیر کے طلبگار آگے بڑھ اور اے شر کے طالب ٹہر جا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں ،یہ سلسلہ ختم رمضان تک ہر رات جاری رہتا ہے (ترمذی ح ۵۹۰) ۔رمضان المبارک میں رحمت خداوندی پورے جوش میں ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس میںبے حساب افراد کی توبہ قبول فرماتے ہیں ، معمولی عمل پر غیر معمولی ثواب عنایت فرماتے ہیںاور ہزارو ں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑں افراد کی بخشش کے فیصلے فرماتے ہیں ، حضرت حسن بصری (ؒ مرسلاً) حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی ہر رات میں چھ لاکھ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہیں ،اور جب آخری رات ہوتی ہے تو گذشتہ آزاد شدہ لوگوں کے بقدر لوگ(ایک ہی رات میں) آزاد کئے جاتے ہیں(شعب الایمان للبیہقی ۳؍۳۰۳)،اللہ تعالیٰ کی یہ اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت وشفقت ہی تو ہے جو اس قدر بے حساب بندے معاف کئے جاتے ہیں۔
رمضان المبارک ، اس کی ساعتیں اور اس کی عبادتیں اس قدر مہتم بالشان اور اپنے اندر فضیلت لئے ہوئے ہیں کہ دوسرے ایام اور ان میں کی گئی عبادتیں ہر گز اس کا متبادل نہیں بن سکتیں ،آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا روزہ چھوڑ دے تو اگر وہ ساری عمر بھی روزے رکھتا رہے تو اس ایک روزہ کا بدل نہیں بن سکتا (ترمذی ۴۹۱) ، یقیناخوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مکمل قدر کرتے ہیں اور اس کی رحمتوں ،برکتوں اور عنایتوں سے مستفید ہوتے ہیں اور بڑے ہی بد نصیب بلکہ بد بخت ہیں وہ لوگ جو باوجود رمضان پانے کے بھی بے حسی ،بے توجہی اور لاپر واہی کے ذریعہ اس کی رحمتوں ،برکتوں اور نعمتوں سے سے محروم رہ جاتے ہیں،رمضان المبارک کی ناقدری کرنے والے کس قدر بد نصیب اور بد بخت ہیں کہ ان کے حق میں سید الملائکہ حضرت جبرئیل ؑ نے بد عا فرمائی اور سید المر سلین ﷺ نے اُس بد دعا پر آمین کہا ہے ، حضرت کعب بن عجزہ ص فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر آپ ا نے صحابۂ کرام ثسے منبر کے قریب ہونے کو کہا تو تعمیل ارشاد میں سب قریب ہوگئے پھر جب آپ ا پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا :’’آمین ‘‘پھر دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : ’’آمین ‘‘ پھر جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو بھی :’’آمین‘‘ ہی فرمایا،پھر جب خطبہ ارشاد فرما کر آپ امنبر سے نیچے اُترے تو ہم لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ا! آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی جو اس سے قبل کبھی نہیں سنی تھی توفرمایا جس وقت میں منبر پہلا قدم رکھا تو جبرئیل امین ں میرے پاس تشریف لائے اورفرمانے لگے : ’’ہلاکت وتباہی ہے اس پر جس نے ماہ ِ رمضان پا لیا ، پھر بھی اس کی مغفرت نہیں ہوسکی ‘‘ تو میں نے آمین کہا ، پھر جب (میں ) دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمانے لگے ’’اس شخص پر ہلاکت وتباہی ہے جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا ہو ‘‘تو اس پر میں نے آمین کہا ،پھر جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : ’’اس شخص پر ہلاکت وبربادی ہے کہ جس نے اپنے بوڑھے والدین میں سے دونوں کو یا کسی ایک کو پایا پھر بھی ان کی خد مت کرکے جنت حاصل نہ کرسکا ‘‘ تو اس پر بھی میں نے آمین کہا ‘‘ ( انوار ہدایت ص ۱۳۴ بحوالہ شعب الایمان للبیہقی ) ،ایسے شخص کی محرومی و بد بختی بلکہ ہلاکت وبربادی میں کیا تردد ہوسکتا ہے کہ جس کے لئے زبان سید الملائکہ سے بد عا نکلی ہو اور اس سید اکمرسلین ﷺ نے آمین کی مہر لگائی ہو(اللہ ہم سب کو اس محرومی سے بچائے) آمین۔ رمضان المبارک کی خصوصی عبادتوں میں ایک اہم عبادت ’’ایک ماہ کے روزے ہیں‘‘جو ہر مسلمان ،مرد ،عورت ،عاقل ،بالغ ،صحت مند اور مقیم پر فرض کئے گئے ہیں،بلاکسی شرعی عذر کے اِن کو چھوڑ دینا سخت جرم اور گناہ کبیرہ ہے ،اس ماہ کی دوسری اہم عبادت ’’ نماز تراویح ‘‘ ہے یہ نماز سنت مؤکدہ ہے ،سستی کاہلی کی وجہ سے اسے ترک کرنا سخت محرومی کی بات ہے ،اسی طرح اس مقدس مہینے کی تیسری اہم عبادت صدقۂ فطر کی ادائیگی ہے ، جوہر اس مسلمان پر واجب ہے جو نصاب کے برابر اصلی حاجتوں سے زائد مال کا مالک ہو ،اگر چہ اس مال پر سال نہ گذرا ہو اور وہ تجارت کیلئے بھی نہ ہو ،صدقۂ فطر عید کی فجر طلوع ہونے پر واجب ہوتا ہے(بدائع ۲؍۷۴) ماہِ رمضان کی چوتھی عبادت ’’مسنون اعتکاف ‘‘ہے جو رمضان کے آخری عشرہ میں مردوں کیلئے مسجد میں اعتکاف کرنا سنت ِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے(ہندیہ ۱؍۲۱۱)یاد رہے کہ ہر محلہ میں کم از کم ایک آدمی کا اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے اگر کسی نے بھی اعتکاف نہ کیا تو پورے محلہ والے تارک سنت ہونے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے( احسن الفتاویٰ ۴؍۴۹۸)، رمضان کی پانچویں نہایت اہم عبادت تلاش شب قدر ہے ،یہ وہ عظیم الشان رات ہے کہ جسے مل گئی گویا اُسے نیکیوں کا خزانہ مل گیا ،قرآن کریم میں اس رات کی عبادت کو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل بتایا گیا ہے ،آپﷺ نے اسے رمضان کے آخر ی عشر ے کی طاق راتوں (یعنی ۲۱،۲۳،۲۵،۲۷اور ۲۹ )میں تلاش کرنے کا حکم دیا ہے (بخاری ۱۸۸۱)،ام امؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ :یارسول اللہ ﷺ مجھے معلوم ہوجائے کہ کونسی رات شب ِ قدر ہے تو میں اس رات اللہ تعالیٰ سے کیا مانگو ں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ دعا مانگو:اللہم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی ( ترمذی۸۳۵۵ ) ’’اے اللہ ! آپ بہت معاف فرمانے والے ہیں اور کریم ہیں اور معاف کرنا آپ کو پسند ہے لہذا آپ میری خطائیں معاف فرمادیجئے ، ان عبادات سے ہٹ کر اور بھی عبادتیں ہیں جنکے کرنے کا ہمیشہ ہی سے صحابۂ کرام، علماء دین اور اکابرین امت کا معمول رہا ہے جیسے کثرت سے تلاوت قرآن کا اہتمام اس لئے کہ قرآن ِ کریم کو رمضان سے خاص مناسبت ہے ،قرآن ِ کریم رمضان ہی میں اُتا را گیا ہے ، خود آپ ﷺ حضرت جبرئیل ؑ کے ساتھ مل کر اس ماہ میں قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے ،مزید یہ کہ اس میں دعاؤں کا اہتمام بھی زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے ، آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: رمضان المبارک میں (اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی) دعائیں قبول فرماتے ہیں (کنزالعمال ح ۲۳۶۹۲)، خاص کر افطار کے وقت دعاؤں کا اہتمام ہونا چاہئے کیونکہ اس وقت کی دعائیں رد نہیں ہوتیں،اس ماہ کی مکمل راتوں میں شب بیداری کی عادت بنالینی چاہئے اس لئے کہ رمضان نیکیوں کے کمانے کا مہینہ ہے جتنا ہوسکے نیکیوں کے حاصل کرنے میں اپنے اوقات صرف کر دینا اور اپنی طاقت جھونک دنیا چاہئے ،نماز تہجد کا اہتمام ہونا چاہئے عموماً عام دنوں میں اکثر لوگ اس سے غافل ہوتے ہیں رمضان میں سحر ی کیلئے بیدار ہوتے ہی ہیں اگر اس موقع پر کم از کم دوچار رکعت پڑھ لی جائیں تو کیا ہی اچھی بات ہوگی ،رات کے آخری حصہ میں جب بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ،اس سے سرگوشی کرتا ہے اور اس کی جناب میں نیاز مندانہ سرجھکا تا ہے تو ایسے بندے پر اللہ تعالیٰ کو بہت پیار آتا ہے ، کیا بعید کہ نماز تہجد کی برکت سے اللہ تعالیٰ محبت ومعرفت حاصل ہوجائے ، ہرمسلمان کو چاہیے کہ وہ ماہ ِ مقدس اور مبارک ساعتوں سے بھر پور فائدہ اُٹھا نے کی کوشش کرے، اپنی حیثیت کے مطابق غرباومساکین میں خیر خیرات کرنے کا مزاج بنائیں ،احادیث میںآپ ﷺ کی ایک خاص صفت کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ ا سب سے زیادہ فیاض اورسخی تھے گو یا کہ فیاضی وسخاوت آپ کی طبیعت ثانیہ تھی خود تو بھوکے رہتے تھے مگردوسروں کو برابر کھلایا اور پلایا کرتے تھے ،ابن عباس ص فرماتے ہیں کہ نبی کریم ا نفع پہنچانے میں لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب جبرئیل ںآپ ا سے ملتے تو اوربھی (زیادہ) سخی ہوجاتے تھے (بخاری ۱۷۷۴) لہٰذا رمضان المبارک میں تمام مسلمان اپنے نبی ا کی جود وسخاوت کی سنت پر عمل کرتے ہوئے خیر خیرات کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کریں اور خاص کر ان غریب مسلمانوں کا خیال رکھیں جن کو گھروں میں تنگ دستی کی وجہ سے افطار اور سحر میں عمدہ کھانا تو کیا معمولی کھا نابھی میسر نہیں ۔
جب ماہِ رمضان ختم ہوجائے اور ہلال عید نظر آجائے تو اس رات یعنی شبِ عید پوری توجہ ،انہماک اور نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ مناجات ،عبادات اور ذکر واذکار میں گذار نا چاہیے اس لئے کہ یہ بھی بڑی برکت اور فضیلت کی رات ہے اس رات کو لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات کہا گیا ہے ،اللہ تعالیٰ بندوں کی عبادات وریاضات سے خوش ہوکر انہیں آج کی رات انعامات سے سرفراز فرماتے ہیں ، جناب رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ : رمضان کی آخری رات میں امت کے لئے مغفرت اور بخشش کا فیصلہ کیا جاتا ہے آپ ا سے دریافت کیا گیا : آپ ا :کیا وہ شبِ قدر ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ شبِ قدر تو نہیں ہوتی؛ لیکن بات یہ ہے کہ مزدور جب کام پورا کرلے تو اسے پوری مزدوری دی جاتی ہے ۔( مشکوۃ ،کتاب الصوم ،حدیث :۱۹۶۸ بحوالہ مسند احمد) ۔
رمضان المبارک کے فضائل ومناقب اور اس میں کی جانے والی عبادتوں پر انعامات خداوندی کی بشارتیں یقینا اس شخص کیلئے ہیں جو کما حقہ قدردانی کرتے ہوئے اپنے شب وروز عبادت ،اطاعت ،تلاوت ،ذکر وتسبیح اور تقویٰ وپرہیز گاری کے ساتھ گذار تا ہے اور اس ماہِ مقدس کی ایسی ہی قدر کرتا ہے جیساکہ آپﷺ نے قدر کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے ویساہی گذارتا ہے جیساکہ آپ ﷺ نے اسکو عملی طور پر گذار کر صحابۂ کرام کو بتایا تھا اور صحابۂ کرام نے اپنے بعد والوں کو بھی یہی طریقہ سکھلایا تھا اور ان کے بعد آج تک بزرگانِ دین اسی نہج پر عمل کرتے رہے ہیں ، رمضان المبارک کی آمد پرصرف زبانی خوشی کا اظہار کرنا اور رسماً اس کا استقبال کرنا اور عمل کے ذریعہ اس سے بے رخی برتنا سراسر نادانی ہی نہیں بلکہ بڑی حماقت کی بات ہے آج مسلمانوں کا بہت بڑا طبقہ رسماً رمضان کا قدر داں ہے نہ کہ عملا،ً صحابہ ؓ ،تابعین ؒ اور اکابرِ امت کے زمانۂ رمضان پر نظر ڈالیے اور آج کے رمضان کا اس سے تقابل کیجئے تو یقینا زمین وآسمان کا فرق نظر آئے گا ،ان کے زمانہ میں رمضان کی آمد پر دوکانیں بند ،بازار ویران ،سڑکیں سنسان نظر آتی تھیں گویا وہ حضرات زبان حال وقال اور فعل وعمل کے ذریعہ بتاتے تھے کہ ماہِ مقدس رمضان نیکیوں کے کمانے ، مساجد کو ہر وقت آباد رکھنے ،نیکیوں پر سبقت لے جانے، جنت کو یقینی بنانے ،آخرت کی ابدی ولامحدود زندگی کیلئے مغفرت کے حاصل کرنے اور اپنے آقا ومولیٰ سے سچی دوستی کرنے ،غلطیوں سے معافی مانگ لینے اور اللہ تعالیٰ کے حقیقی فرما ںبرداروں کی فہرست میں شامل ہوجانے کا مہینہ ہے اس کے بر خلاف آج ہمارا جوحال ہے وہ سب پر عیاں ہے وہ رمضان کے آتے ہی دوکانیں چمکائی جاتی ہیں ، باز اروں میں غیر معمولی چہل پہل نظر آتی ہے ،سڑکوں پر لوگوں کااژدحام نظر آنے لگتا ہے ،ہوٹلیں رات دیر گئے تک آباد رہتی ہیں اورکارو بار ی لوگ کمائی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں باجماعت نماز ،تراویح ،تلاوت قرآن ،تلاش شب قدر اور دیگر عبادتوں سے توجہ ہٹ جاتی ہیں ،حد تو یہ ہے کہ ان عبادات کے چھوٹ جانے پر ذراسا احساس اور ندامت بھی نہیں ہوتی نتجۃ محرومی مقدر بن جاتی ہے ، اس سلسلہ میں مسلمانوں کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ رمضان آنے سے قبل ہی تمام ذمہ داریوں سے فارغ ہوکر رمضان میں داخل ہوں تاکہ اس عظیم ،مبارک ،محترم ماہ کی رحمتوں سے بھر پور استفادہ کیا جا سکے ،اگر مسلمان اس طرح رمضان گذاریں گے تو دنیا میں عزت وعظمت ملے گی اور آخرت میں اپنے رسول ﷺ کی شفاعت اور خداوند قدوس کی خوشنودی حاصل ہوگی ،اللہ تعالی ہم سبھوں کو ماہِ رمضان المبارک کی قدردانی نصیب فرمائیں اور ہم کو اِس کی رحمتوں ،برکتوں اور نعمتوں سے مالامال فرمائے اور ایسے رمضان بار بار نصیب فرمائے ۔آمین۔

مبارک ہو مسلمانو!کہ پھر ماہِ صیام آیا٭خدا کی رحمتوں اور برکتوں کااژدھام آیا

Check Also

روزہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نسخہ اکسیر اور روحانی امراض کا بہترین علاج ہے

تحریر: محمد عبدالحفیظ اسلامیسینئر کالم نگارو آزاد صحافی۔ فون نمبر:9849099228 یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ …