Best Offer

’’ یکم اپریل ‘‘ جھوٹ کا عالمی دن

تحریر: عبدالمنعم فاروقی
9849270160

اسلام دنیا کا سب سے مقدس اور پاکیزہ مذہب ہے ،اس کی تعلیمات انسانیت کے لئے آب رحمت کا درجہ رکھتی ہیں ،اس نے انسانوں کو ان باتوں کی تعلیم وتلقین کی ہے جو اس کی فطرت قبول کرتی ہے اور ان تمام باتوں سے منع کیا ہے جسے فطرت انسان پسند نہیں کرتی ہے ،اسلامی احکامات اور پیغمبر اسلام ؐ کی تعلیمات صدق وعدل پر مبنی ہیں ،یہ وہ باتیں ہیں جسے ہر سلیم الطبع نفس قبول کرتا ہے ،پیغمبر ؐ کی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم صدق وعدل اور انسانیت ومروت ہے ، آپؐ نے جہاں صدق وامانت ،عہد ووفا اور خدمت ِ انسانیت کو اسلام قرار دیا وہیں کذب وخیانت ،د ھوکا وفریب اور ایذا رسانی کو تعلیمات ِ اسلامی کے منافی قرار دیا ،ایک حدیث میں آپؐ نے جھوٹ ،خیانت اور بد عہدی کو نفاق کی علامت قرار دیا اور ایسے لوگوں کو منافقین کی فہرست میں شمار کیا ہے ، ، ارشاد فرمایا کہ’’چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ جمع ہوجائیں تو وہ خالص منافق ہے،اور جس میں ان چار وں میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس کا حال یہ ہے کہ اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے اور وہ اسی حال میں رہے گا جب تک اس عادت کو چھوڑ نہ دے،۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چار عادتیں یہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ جب اس کو کسی امانت کا امین بنایا جائے تو اس میں خیانت کرے،اور جب باتیں کرے تو جھوٹ بولے،اور عہدو معاہدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب کسی سے جھگڑا اور اختلاف ہو تو بدزبانی کرے(بخاری:۲۱۹)۔
ایک طرف اسلام کی پاکیزہ تعلیمات ہیں تو دوسری طرف تہذیب جدید ہے جو فریب کاری کے ذریعہ دنیا پر چھاجانا چاہتی ہے جس میں من مانی ،آزادی اور انسانیت کے ساتھ بھونڈا مذاق پایا جاتا ہے ،انہوں نے انسانوں کے درمیان وہ غیر مذہب چیزیں رائج کی ہیں جس کا شرافت سے کوئی تعلق نہیں ہے ،مگر افسوس کے بہت سے آزاد خیال اس تہذیب کو اپنا کر جھوٹی تسکین حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ،اگرچہ بظاہر انہیں کچھ سرور حاصل ہو رہا ہوگا لیکن حقیقت میں اس کا نقصان نہایت خطرناک اور تباہ کن ہے ،انہیں اخلاق سوز اور انسانیت کے منافی چیزوں میں سے ایک اپریل فول کی لعنت ہے جس پر جتنی لعنت کی جائے کم ہے ،بلکہ یہ تو جھوٹ کا علمی دن ہے ،اس دن جس قدر جھوٹ بولاجاتا ہے اور لوگوں کو ایذا پہنچایا جاتا ہے شاید سال کے کسی دوسرے دن اتنا جھوٹ بولا جاتا ہو اور لوگوں کو اس کے ذریعہ تکلیف میں مبتلا کیا جاتا ہو۔
پوری دنیا خصوصاً اہل مغرب یکم اپریل کو بڑی دھوم دھام اور بڑے اہتمام سے ’’اپریل فول April Pool ‘‘ مناتے ہیں ،اس دن لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بے ہودہ اور بھونڈا مذاق کرتے ہیں ،ایک دوسرے کو اس کے ذریعہ بے وقوف بناتے ہیں ،جو جتنا زیادہ جھوٹ بول کر دوسرے کو بے وقوف بناتا ہے اور اسے زک پہنچاتا ہے اسے اتنی زیادہ شاباشی دی جاتی ہے ،اپریل فول کے نتیجہ میں ہر سال سیکڑوں لوگ بھاری مالی نقصان سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ بے ہودہ مذاق ،جھوٹی اطلاع کی وجہ سے بعض تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو دیتے ہیں ،اس بے ہودہ ،اخلاق سوز اور لعنتی رسم کا مدار جھوٹ،دھوکا ، فریب ،ایذا رسانی پر مبنی ہے ،اس سے ناحق کسی کو ستانا وتکلیف دینا مقصود ہوتا ہے، اسلام نے اس طرح کی حرکت کو نہ صرف غیر اخلاقی ،غیر شائستہ قرار دیا ہے بلکہ اسے ناجائز و حرام قرار دے کر اس سے بچنے کی سخت تاکید کی ہے، اپریل فول غیر اخلاقی وغیر ایمانی ہونے کے علاوہ اس کا تاریخی پہلو بھی انتہائی شرمناک بلکہ تاریخ پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رسم در حقیقت بت پرستانہ تقدس ،شرکیہ عقائد اور جلیل القدر پیغمبر حضرت عیسیٰ ؑ کے تقدس کی پامالی اور اسلام سے دشمنی کواجاگر کرتی ہے ،اس بدترین ،غیر مہذب ،اخلاق سوز اور اسلام دشمن رسم کے قباحت وشناعت اور بُرائی و نقصانات کے ذکر سے قبل اس کے تاریخی پہلو کا ذکر کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اپریل فول کی ابتداء کہاں سے ہوئی ، کیسے ہوئی اور اس کا پس منظر کیا ہے ؟ عالم اسلام کے نامور عالم دین ،شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے اپریل فول کی تاریخ کچھ اس طرح تحریر کی ہے ،لکھتے ہیں کہ ’’ اس رسم کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ اس بارے میں مؤ رخین کے بیانات مختلف ہیں، بعض مصنفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترھویں صدی سے پہلے سال کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہواکرتا تھا،اس مہینے کو رومی لوگ اپنی دیوی وینس (Venus) کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھا کرتے تھے،وینس کا ترجمہ یونانی زبان میںAphrodite کیا جاتا تھا اور شاید اسی یونانی نام سے مشتق کرکے مہینے کا نام اپریل رکھ دیا گیا،بعض مصنفین کا کہنا ہے کہ چونکہ یکم اپریل سال کی پہلی تاریخ ہوتی تھی اور اس کے ساتھ ایک بت پرستانہ تقدس بھی وابستہ تھا اس لئے اس دن کو لوگ جشن ِ مسرت منایا کرتے تھے اور اسی جشنِ مسرت کا ایک حصہ مذاق بھی تھا جو رفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیار کر گیا،بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس جشن مسرت کے دن لوگ ایک دوسرے کو تحفے دیا کرتے تھے ،ایک مرتبہ کسی نے تحفے کے نام پر کوئی مذاق کیا جو بالآخر دوسرے لوگوں میں بھی رواج پکڑ گیا،برٹانیکا میں اس رسم کی ایک اور وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ۲۱؍مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوتی ہیں ،ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ ( معاذ اللہ) قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنارہی ہے ،لہذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بے وقوف بنانا شروع کر دیا،ایک تیسری وجہ انیسویں صدی عیسوی کی معروف انسائیکلو پیڈیا ’’لاروس‘‘ نے بیان کی ہے ،اور اسی کو صحیح قرار دیا ہے ،وہ وجہ یہ ہے کہ دراصل یہودیوں اور عیسائیوں کی بیان کردہ روایات کے مطابق یکم اپریل وہ تاریخ ہے جس میں رومیوں اور یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ ؑ کو تمسخر اور استہزاء کا نشانہ بنایا گیا،موجودہ نام نہاد انجیلوں میں اس واقعے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں ،لُوقا کی انجیل کے الفاظ یہ ہیں: ’’اور جو آدمی اسے (یعنی حضرت مسیح ؑ کو) گرفتار کئے ہوئے تھے اس کو ٹھٹھے میں اُڑا تے اور مارتے تھے اور اس کی آنکھیں بند کرکے اس کے منہ پر طمانچے مارتے تھے اور اس سے یہ کہہ کر پوچھتے تھے کہ نبوت (یعنی الہام)سے بتاکہ کس نے تجھ کو مارا؟ اور طعنے مارمار کر بہت سی اور باتیں اس کے خلاف کہیں( لوقا۲۲،۶۳تا۶۵)،انجیلیوں میں ہی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے حضرت مسیح ؑ کو یہودی سرداروں اور فقیہوں کی عدالت عالیہ میں پیش کیا گیا ،پھر وہ انہیں پیلاطس کی عدالت میں لے گئے کہ ان کا فیصلہ وہاں ہوگا،پھر پیلاطس ہی کی عدالت میں بھیجا،لاروس کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح ؑ کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں بھیجنے کا مقصد بھی ان کے ساتھ مذاق کرنا اور انہیں تکلیف پہنچانا تھا،اور چونکہ یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیا تھا اس لئے اپریل فول کی رسم درحقیقت اسی شرمناک واقعے کی یادگارہے۔
اپریل فول منانے کے نتیجہ میں جس شخص کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اسے فرانسیسی زبان میں Poisson d’avril کہا جاتا ہے،جس کا انگریزی ترجمہ April Fish ہے،یعنی اپریل کی مچھلی (برٹانیکا،ص:۴۹۶،ج :۱)،گویا جس شخص کو بے وقوف بنایا گیا ہے وہ پہلی مچھلی ہے جو اپریل کے آغاز میں شکار کی گئی ،لیکن لاروس نے اپنے مذکورہ بالاموقف کی تائید میں کہا ہے کہ Poisson کا لفظ جس کا ترجمہ ’’مچھلی‘‘ کیا گیاہے،درحقیقت اسی سے ملتے جلتے ایک اور فرانسیسی لفظ Posion کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنیٰ ’’تکلیف پہنچانے ‘‘ اور ’’عذاب دینے ‘‘کے ہوتے ہیں ،لہذا یہ رسم درحقیقت اس عذاب اور اذیت کی یاد دلانے کے لئے مقرر کی گئی ہے جو عیسائی روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑ کو پہنچائی گئی تھی،ایک اور فرانسیسی مصنف کا کہنا ہے کہ دراصل Poissno کا لفظ اپنی اصل شکل ہی پر ہے،لیکن یہ لفظ پانچ الفاظ کے ابتدائی حروف کو ملاکر ترتیب دیا گیا ہے ،جن کے معنی فرانسیسی زبان میں بالترتیب عیسیٰ ،مسیح،اللہ ،بیٹا اور فدیہ ہوتے ہیں،گویا اس مصنف کے نزدیک بھی اپریل فول کی اصل یہی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کا مذاق اڑا نے اور انہیں تکلیف پہنچانے کی یاد گار ہے(فرید وجدید کی عربی انسائیکلو پیڈیا ،دائرۃ معارف القرآن : ص ۲۱،۲۲،ج۱)،اگر یہ بات درست ہے (لاروس وغیرہ نے اسے بڑے وثوق کے ساتھ درست قرار دیا ہے اور اس کے شوہد پیش کئے ہیں) تو غالب گمان یہی ہے کہ یہ رسم یہودیوں نے جاری کی ہوگی اور اس کا منشاء حضرت عیسیٰ ؑ کی تضحیک ہوگی ،لیکن یہ بات حیرتناک ہے کہ جو رسم یہودیوں نے (معاذ اللہ) حضرت عیسیٰ ؑ کی ہنسی اڑانے کے لئے جاری کی ،اسے عیسائیوں نے کس طرح ٹھنڈے پیٹوں نہ صرف قبول کر لیا،بلکہ خود بھی اسے منانے اور رواج دینے میں شریک ہو گئے ،اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ عیسائی صاحبان اس رسم کی اصلیت سے واقف ہی نہ ہوں،اور انہوں نے بے سوچے سمجھے اس پر عمل شروع کر دیا ہو،اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عیسائیوں کا مزاج ومذاق اس معاملے میں عجیب وغریب ہے ،جس صلیب پر حضرت عیسیٰ ؑ کو ان کے خیال میں سولی دی گئی بظاہر قاعدے سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ ان کی نگاہ میں قابل نفرت ہوتی کہ اس کے ذریعے حضرت عیسیٰ ؑ کو ایسی اذیت دی گئی ،لیکن یہ عجیب بات ہے کہ عیسائی حضرات نے اس کو مقدس قرار دینا شروع کر دیا اور آج وہ عیسائی مذہب میں تقدیس کی سب سے بڑی علامت سمجھی جاتی ہے۔
لیکن مندرجہ بالا تفصیلات سے یہ بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ خواہ اپریل فول کی رسم وینس نامی دیوی کی طرف منسوب ہو یا اسے (معاذ اللہ) قدرت کے مذاق کا رد عمل کہا جائے ،یا حضرت مسیح ؑ کے مذاق اڑانے کی یادگار ،ہر صورت میں اس رسم کا رشتہ کسی نہ کسی توہم پرستی یا کسی گستاخانہ نظریے یا واقعے سے جڑا ہوا ہے،اور مسلمانوں کے نقطہ نظر سے یہ رسم مندرجہ ذیل بدترین گناہوں کا مجموعہ ہے :(۱) جھوٹ(۲) دھوکا دینا(۳) دوسرے کو اذیت پہنچانا‘‘۔(معاشر تی حقوق وفرائض ،ص: ۲۵۱ تا ۲۵۴) ، اپریل فول کا پہلا گناہ جھوٹ ہے جس کا ذکر سطور بالا میں کیا گیا کہ یہ شریعت کی نظر میں ایک بدترین عمل ہے ،جھوٹ آدمی کو اہل ایمان کی صف سے نکال کر منافقین کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے،قرآن مجید میں جہاں سچائی کو اپنانے اور سچوں کے ساتھ رہنے کی تلقین کی گئی ہے وہیں جھوٹ سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے ارشاد ربانی ہے :وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ (الحج:۳۰) ’’ اور جھوٹ بات سے اجتناب کرو‘‘ ،جب آدمی جھوٹ بولتا ہے اور دھیرے دھیرے اس کا عادی ہوجاتا ہے تو پھر اس کا شمار جھوٹوں میں کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں اس سے نیکی اور بدی کی صلاحیت چھین لی جاتی ہے اور بالآخر وہ ہدایت سے محروم کر دیا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے: إِنَّ اللَّہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ (المؤمن :۲۸)’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بے لحاظ جھوٹا ہو‘‘۔
جھوٹے شخص کے منہ سے ایک قسم کی بد بو نکلتی ہے جسے فرشتوں کے علاوہ بسااوقات اللہ کے وہ بندے بھی محسوس کرتے ہیں جن کی روحانیت ان کی مادیت پر غالب آجاتی ہے، جھو ٹ کی گندگی اور بدبو سے فرشتے دور ہٹ جاتے ہیں ،آپؐ نے اشاد فرمایا کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کے جھوٹ کی بدبو سے ایک میل دور چلا جاتا ہے (ترمذی ؛۱۹۷۲)،اپریل فول کا دوسرا بدترین گناہ کسی کو دھوکا دینا ہے،دھوکا چاہے مذاق ہی میں کیوں نہ ہو بہرے حال دھوکا تو دھوکا ہی ہے ،اس سے آدمی کو سخت قسم کی اذیت پہنچتی ہے اور اس کے نتیجہ میں جس کو دھوکا دیا جاتا ہے وہ کبھی مالی،بدنی اور ذہنی تکلیف سے دوچار ہوجاتا ہے،قرآن مجید میں مکر وفریب کرنے ،بُری تدبیروں کے ذریعہ لوگوں کو اذیت پہنچانے اور دھوکا دینے والوں کو بڑے سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے اور انہیں آخرت کے درد ناک عذاب سے ڈرایا گیا ہے، ارشاد ہے: وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُونَ السَّیِّئَاتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَمَکْرُ أُوْلَئِکَ ہُوَ یَبُورُ (فاطر:۱۰)’’ جو لوگ بری چالیں چلتے رہتے ہیں ان کے لئے سخت ترین عذاب ہے اور ان کا یہ مکر برباد ہوجائے گا‘‘ جو لوگ مکر وفریب اور دھوکا دہی سے کام لیتے ہیں اور اس کے ذریعہ لوگوں کو بناتے رہتے ہیں انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں ،ظاہر میں تو یہ دوسروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں لیکن دراصل اس کا وبال خود ان پر ہی برسنے والا ہے ،یہ خود اس جال میں پھنسنے والے ہیں ،قرآن مجید میں ہے : وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ إِلَّا بِأَہْلِہ(فاطر: ۴۳)’’ اور(یقینا) بری تدبیر کرنے والوں کا وبال ان تدبیر کرنے والوں ہی پر پڑتا ہے‘‘ ،جو مسلمان مکر وفریب کرتا ہے ،بُری تدبیروں کے ذریعہ لوگوں کو ایذا پہنچاتا ہے اور کسی بھی طرح کا دھوکا دیتا ہے ،ایسے شخص پر آپؐ نے سخت ناراضگی اور غصہ کا اظہار فرمایا ہے ،آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں‘‘ترمذی :۱۳۶۳) ، اپریل فول کا تیسرا بڑا گناہ کسی کو ایذا پہنچانا ہے،اسلام انسانیت کا سب سے بڑا ہمدرد اور خیر خواہ ہے بلکہ وہ کسی جاندار کو بلاوجہ تکلیف پہنچانے حتی کہ کسی ہرے بھرے درخت کو بے وجہ کاٹنے کا بھی سخت مخالف ہے،اس کی تعلیم میں ترحم ہی ترحم ہے ،وہ ضرر اور نقصان پہنچانے کو گناہ اور خدا کی ناراضگی کا سبب قرار دیتا ہے،آپ ؐ نے لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرنے اور انہیں ایذا پہنچانے سے بچنے کی تاکید فرمائی اور فرمایا کہ جو انسانوں پر رحم نہیں کھائے گا و ہ خدا کی رحمت کا ہرگز مستحق نہ ہوگا ،ارشاد فرمایاکہ’’ اُس شخص پر اللہ کی رحمت نہ ہوگی جو( اس کے پیدا کئے ہوئے) انسانوں پر رحم نہ کھائے گا اور ان سے ترحم کا معاملہ نہ کرے گا(بخاری:) ، ایک حدیث میں آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان درازیوں اور دست درازیوں سے بنی نوع انسان محفوظ رہے ‘‘(مسند احمد: ۱۶۰۴۰) ایک اور جگہ آپؐ نے خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں سے ارشاد فرمایا کہ’’ (حقیقی اور کامل ) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی ایذا رسانی سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ‘‘(بخاری:۶۴۸۴)،مذکورہ بالا تفصیلات اور وضاحتوں کے بعد ایک مسلمان کے لئے کہاں گنجائش باقی رہتی ہے کہ وہ اپریل فول منائیں یا کسی بھی لحاظ سے اس بُری رسم میں شریک رہیں،الحمد اللہ بہت سے مسلمان اس بے ہودہ رسم کی حقیقت سے واقف ہوکر کلی طور پر اس سے دور ہوچکے ہیں ،لیکن ابھی بھی ایسے لوگ ہیں جو بلا سوچے سمجھے اور بغیر کسی غورو فکر کے مغرب کی اس لعنتی رسم میں ملوث ہیں ، ان میں بعض نادان وہ ہیں جو صرف مغرب کی دیکھا دیکھی ان کی نقل کو اپنے لئے عزت وتوقیر سمجھتے ہیں،دیگر چیزوں کی طرح اس میں بھی ان کی نقالی کرتے ہیں ،انہیں نہ تو اسلامی تعلیمات یاد ہیں اور نہ ہی تہذیب نبوی ؐ سے واقفیت ہے ،بس جئے جارہے ہیں ،اور ان میں بعضے وہ ہیں جو خود کو ماڈرن تصور کرتے ہیں اور یورپی تہذیب کو گلے لگا نے ہی میں اپنی عزت اور شان سمجھ بیٹھے ہیں ، حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس چیز کو وہ سونا سمجھ رہے ہیں درحقیقت وہ ایک آگ کا انگارا ہے جو کسی بھی وقت ان کے وجود کو بھسم کر سکتا ہے، انہیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور نہایت اہتمام سے سیرت نبوی ؐ کو پڑھیں ،اہل علم اور دل حضرات کی صحبت میں رہیں،کیونکہ صالحین کی صحبت سے زندگی میں صالح انقلاب برپا ہوتا ہے اور شکوک وشبہاب کا ازالہ بھی،ہماری سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ ہم دوسروں سے بہت جلد مرعوب ہوجاتے ہیں اور اسی مرعوبیت کی وجہ سے ان کی نقل کرنے لگتے ہیں ،اہل ایمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے اندر مقناطیسی کشش رکھتے ہیں ،وہ اپنے قول فعل سے دوسروں کو اپنی طرف مائل ہونے پر مجبور کرتے ہیں نہ کہ خود کسی اور کی طرف مائل ہوتے ہیں،مسلمان اپنے آپ کو اور اپنے مقام کو پہنچانیں ، مغرب کی نقالی کرتے ہوئے اپنی دنیا برباد اور آخرت جہنم نہ بنائیں ،خدا کی دی ہوئی اس عظیم نعمت (اسلام)پر شکر بجا لائیں اور مغرب کی بے ہودہ ،اخلاق سوز ،شرافت کے منافی رسومات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچنے کی تلقین کرتے رہیں۔