Best Offer

دی کشمیر فائلس جھوٹ پر مبنی ایک پروپگنڈہ فلم ہے ، کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا ایک ہی راستہ ہے مقامی آبادی کے ساتھ گفتگو

’’کشمیر فائل کے پس پشت ایجنڈہ‘‘ عنوان سے سمپوزیم میں سابق جج، ماہر قانون، انسانی حقوق کے کارکن اور تاریخ دانوں کا اظہار خیال

ممبئی: 2 اپریل، ہماری آواز
ناانصافی اور عدم مساوات کیخلاف اتحاد یعنی یونائیٹڈ ایگنسٹ ان جسٹس اینڈ ڈسکرمنیشن نے ملک میں پھیلائی جارہی ہے نفرت جس میں حالیہ دنوں میں مزید شدت آگئی ہے، اس کیخلاف ایک سمپوزیم کشمیر فائلس کے پس پردہ عزائم رکھا تھا ۔اس میں معروف حقوق انسانی کارکن جسٹس کولسے پاٹل ، تاریخ داں داختر اشوک کمار پانڈے ، ماہر قانون مجید میمن ، تیسٹا سیتلواد سمیت کئی سماجی کارکن مدعو تھے ۔ شرکائے سمپوزیم نے متفقہ طور پر یہ کہا کہ کشمیر فائلس محض ایک سیاسی ایجنڈہ ہے جس کے ذریعہ یہ نفرت کی آبیاری کرکے ووٹوں ارتکاز کریں گے ۔ اس میں کئی واقعات درست ہو سکتے ہیں لیکن اس کا دوسرا پہلو نہیں دکھایا گیا ۔ جس کی تفصیلات تاریخ داں اشوک کمار پانڈے نے پیش کی۔
جسٹس ابھے تھپسےنے اپنی مختصر اور دو ٹوک بات میں کہا جموں کشمیر میں نفرت پہلے سے تھی جسے کشمیر فائلس کے ذریعہ بڑھانے کام کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں سے نفرت سنگھ کے بنیادی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ ان کےخمیر میں یہ ہےکہ وہ یہاں کی اکثریت کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہم پر حملہ کیا ۔ان کا ہمیشہ سے ایک بیانیہ ہے کہ مسلمانوں نے ہم پرظلم کیا ۔ یہ جھوٹ پھیلانے کا کام کرتے ہیں ہم کو اس کوچیلنج کرنا چاہئے کہ تم غلط بول رہے اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو آؤڈیبٹ کرو ۔ یہ ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں لیکن کیاہندو راشٹر میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا ۔ میں بحیثیت ہندو یہ جانتا ہوں کے یہاں مساوات نہیں ہے ۔ ہمیں عوامی طور پر ان کو چیلنج کرنا چاہئے۔ وہ بھلے ہی گفتگو نہ کریں لیکن عوام کو تو سمجھا پائیں گے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔یہی نفرت کے خلاف ایک واحد راستہ ہے کہ جھوٹ پر بندھ باندھا جائے ۔
تیسٹا سیتلواد نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا جو لوگ کشمیری پنڈتوں کیلئے مگرمچھ کی طرح آنسو بہارہے ہیں انہوں نے ان کی بہتری کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ابھی بھی آٹھ سو سے زیادہ کشمیری پنڈت کشمیر میں موجود ہیں جس میں ایک سو چالیس خاندان غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں اور کوئی بھی حکومت ان کی بہتری کیلئے کچھ نہیں کررہی ہے ۔ تیستا نے کشمیر میں ہونے والے الیکشن پر بھی سوال اٹھائے کہ وہاں کبھی الیکشن شفاف طریقے سے نہیں ہوئے ۔ ہماری حکومت نے کشمیر کے تئیں کبھی اخلاص سے کوشش نہیں کی ۔انہوں نے کہایہ فلم ایک پروپگنڈہ فلم ہے اسی طرح جرمنی میں بھی ایساہی کیاگیا تھا۔ کرناٹک میں حجاب اور دیگر مسئلہ وہاں الیکشن کے مدنظر یہ کیا جارہا ہے ۔ کشمیر فائل کی مدد سے تشدد کو اتنا پھیلائیں گے ۔ تیستا سیتلواد نے صحافیوں کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی کہ ان کا کام وزیر اعظم سے سوال پوچھنا تھا کہ وہ وزیر اعظم سے سوال کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ ان کا ایجنڈہ یہ ہے کہ گلی گلی میں اتنی نفرت پھیلا دی جائے کہ ہر جگہ مسلمانوں کیخلاف تشد پھوٹ پڑے ۔ تیستا نے سوال کیا کہ عدلیہ موجودہ ماحول میں سو موٹو کیوں نہیں لیتی ۔ انہوں نے آسام کے نیلی میں 1982 میں دو ہزار سے زائدمسلمانوں کے قتل عام کا بھی ذکر کیا۔
کولسے پاٹل نے اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کشمیر فائل جیسی نفرت پھیلانے والی فلمیں ہمارے رویوں کی وجہ سے بھی فروغ پاتی ہیں ۔کیون کہ ہم اسے روکنے کیلئے اسقدر قوت نہیں لگاتے جیسا کہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا زیادہ سے زیادہ دوسو پنڈتوں کا قتل ہوالیکن پوری دنیا میںاس بنیاد پر نفرت پھیلایا جارہا ہے ۔کولسے پاٹل نےآر ایس ایس کے تعلق سے کہا کہ سنگھ کا تحریری طور پرایجنڈہہے کہ یہ حکومت میں رہیں باقی عوام ان کے غلام ۔ بی جے پی کی نفرت پھیلانے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نےکہاکشمیری پنڈتوں کے قتل کی ذمہ دار بی جے پی اور سنگھ ہے کیوں کہ ریاست اور مرکز میں ان کی ہی حکومت تھی ۔ چھ سالہ باجپئی اور آٹھ سال مودی حکومت نے پنڈتوں کے آنسو نہیں پونچھے۔
عام طور مودی حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ۳۷۰ ہٹ جانے سے کشمیر کی حالت بہت اچھی ہوجائے گی مگر تین سال ہونے کو ہے اور کشمیر کی حالت پہلے سے مزید ابتر ہوئی ۔ اس لئے اس سے ناراضگی جموں کے ہندوئوں میں بھی ہوگی اور وہ یقینا انتخاب کے موقع پر اس کا اظہار کریں گے ۔انہوں نے کہا اب کس وعدہ پر بی جے پی الیکشن لڑے گی ۔اس لئے کشمیر فائل لاکر نفرت کے ذریعہ الیکشن جیتنے کا منصوبہ ہے ۔
تاریخ داں ڈاکٹر اشوک کمار پانڈے نے کشمیرفائلس کے تناظر میں کشمیر میں موجودہ نفرت کی پوری تاریخ بتائی کہ کس طرح وہاں نفرت پلتی رہی اور اس کے ذمہ دار کون کون ہیں ۔انہوں نےکہا ہردے ناتھ ونچو کو گولی ماردی گئی جبکہ وہ انسانی حقوق کیلئے لڑرہے تھے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک نفرت پھیلانے والی فلم ہے لیکن ہمیں اپنے اندر بھی جھانکنے کی ضرورت ہے ۔یہ بھی دیگر واقعات کی طرح آزاد ہندوستان کا درناک واقعہ ہے ۔انہوں نے جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ چھیانوے فیصد اگر چار فیصد کو ختم کرنے عہد کرلیں تو یہ یقینی ہے۔ اس کے باوجود کچھ پنڈت وہاں موجود ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہی ان کی حفاظت کی ہے ۔ ہم روز نعرہ لگاتے ہیں کہ کشمیر ہمارا ہےلیکن کشمیر کے ساتھ ہم نے غلاموں کی طرح رویہ روا رکھا ہوا ہے۔ کشمیر کا الیکشن ہمیشہ مشتبہ ہوتا ہے سب مینیج ہوتا ہے وہاں کبھی بھی شفاف الیکشن نہیں ہوا۔ کشمیری پنڈتوں کو طاقت شروع سے ہی مرکز سے ملتی تھی خواہ اکبر کا دور ہو یا اب آزاد ہندوستان ہو۔ انہوں نے کہا اس طرح کی فلم بنائی ہی اس لئے جاتی ہیں کہ کشمیری پنڈت واپس نہیں جائیں ۔ پنڈتوں کو وہاں آباد کرنے کا ایک ہی علاج ہے انہیں مقامی لوگوں سے ملاکر محبت و خلوص کے ماحول کو پروان چڑھانا۔
ایڈووکیٹ مجید میمن نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا یہ وقت کا مطالبہ ہے کہ ایسے سنجیدہ مسئلہ پر غور کیا جائے۔ فلم سب سے بڑا ذریعہ ہے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کا۔انہوں نے کہا پہلے فلمیں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے بنتی تھیں ۔ لیکن فلمیں سماج کو تقسیم کرنے کیلئے بنائی جاتی ہے ۔ فلمیں اگر کسی برے مقاصد سے بنتی ہیں تو یہ ملک کے لئے خطرناک ہے۔انہوں نے فلم پروڈیوسروں ڈائریکٹروں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ آپ تاریخی فلمیں بناتے ہیں تو یہ ذمہ داری بنتی ہےکہ اسمیں جھوٹ کی آمیزش نہ ہو ۔مجید میمن نے کہا سب سےاہم بات یہ ہے کہ یہ فلم حقیقت سے دور ہےاور کشمیری پنڈتوں کی تعداد میں مبالغہ سے کام لیا گیا ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں پر ظلم کیلئے خود بی جے پی کی حکومتیں زیادہ ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے وزیر اعظم کے ذریعہ فلم کے پروموشن پر کہا کہ ہمیں تاریخ معلوم کرنے کا ذریعہ معلوم ہے اس کیلئے ہمیں کسی کی فلم کی ضرورت نہیں ہے۔

Check Also

ایس۔آئی۔او۔ جلگاؤں ساؤتھ کی جانب سے گرمیوں میں مفت پانی کا اہتمام

جلگاؤں: 30 مارچ، ہماری آوازموسمِ گرما شروع ہوچکا ہے ایسے میں گرمی انتہائی زورو پر …