Best Offer

زنا ایک قرض ہے: مولانا عبد الغنی سلفی

ڈومریا گنج، بلوٹ سدھارتھ نگر

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بتاریخ 30مارچ 2022 بروز بدھ بعد نماز مغرب فلاح انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ اٹوا بازار کے زیرِ اہتمام مقام بلونٹ، پیندا ،ضلع سدھارتھ نگر میں ایک دینی واصلاحی پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا

جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

پروگرام کی نظامت راقم آثم خاکسار محمد نسیم الجامعی کے ذمے تھی ، میں نے اپنی بساط کی حد تک اپنی شکستہ زبان میں احساس ذ مہ داری کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دینے کی کوشش کی-

صدارت کی ذمہ داری گاؤں کے بزرگ اور منجھے ہوئے عالم دین شیخ داؤد احمد فیضی حفظہ اللہ کے ذمے تھی، موصوف نے بڑی ہی تندہی اور عمدہ وبہتر طریقے سے اسے نبھا کر پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے حافظ محمد صالح بن شفیق الرحمان (متعلم جامعہ اسلامیہ دریاباد) نے بے حد خوبصورت اور دلکش آواز میں کیا،

حمدپاک پیش کرنے کے لیے حافظ محمد انیس شمس الدین (متعلم جامعہ معہد علی بن ابی طالب لکھنؤ ) تشریف لائے ، موصوف نے بڑی ہی عمدہ انداز اور دلنشیں لہجے میں حمد پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا

اس کے بعد باقاعدہ تقریری سلسلہ شروع ہوا :
1:
جس کے سب سے پہلے خطیب تھے شیخ عبد الحسیب سنابلی حفظہ اللہ ان کا موضوع خطاب تھا "قبولیت اعمال کے شرائط” شیخ نے بڑی ہی وضاحت، حد درجہ شوق ولگن اور نہایت ہی سادہ اسلوب میں موضوع کی وضاحت فرمائی، شیخ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی بھی عمل کے قابل قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اخلاص کا جذبہ کارفرما ہو، اور وہ کتاب وسنت سے موافقت بھی رکھتا ہو ان دو بنیادی اصول کے بغیر کوئی بھی عمل عند اللہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
2:پروگرام کے دوسرے خطیب تھے فضیلۃالشیخ عبد الغنی سلفی حفظہ اللہ (استاذ کلیۃ الطیبات ڈومریاگنج) جن کا موضوع سخن تھا "دینداری اور معاملات” شیخ نے بڑے ہی اچھوتے، دلکش اور سلجھے ہوئے انداز میں دلائل کی روشنی میں موضوع کی وضاحت فرمائی، شیخ نے دوران خطاب فرمایا کہ جس شخص کے اندر غیرت وحمیت اور دینداری نہ ہو وہ حیوان بلکہ اس سے بھی بدتر ہے، شیخ نے بہت سی سماجی برائیوں کی نشاندہی فرمائی بالخصوص زنا کاری وبدکاری جو آج کل مسلم معاشرے میں دن بدن پروان چڑھ رہی ہے اس کی قباحت وشناعت کو اجاگر کیا اور عوام خصوصا نوجوانوں کو اس سے کوسوں دور رہنے کی دردمندانہ اپیل کی۔
3:پروگرام کے تیسرے خطیب تھے شیخ شفیق الرحمان الریاضی حفظہ اللہ جن کا موضوع بیاں تھا "رمضا ن کو نفع بخش کیسے بنائیں” شیخ محترم نے بھی بڑی ہی ذمہ داری، دلچسپی و شوق، اور بھر پور وضاحت کے ساتھ موضوع کو پیش کیا، شیخ نے فرمایا کہ ہم سچے دل اور خلوص وللہیت کے ساتھ رمضان المبارک کا پرتپاک استقبال کریں، اس کی عظمت ومنزلت کوسمجھیں، سچا پکا موحد بنیں، اخلاص کے ساتھ نمازوں کا اہتمام کریں اور کوئی بھی ایسا کام ہر گز نہ کریں جس سے ہمارے روزوں اور نیک اعمال کے اجرو ثواب پر فرق پڑے۔
4:پروگرام کے سب سے آخری خطیب تھے شیخ جاوید احمد البخاری حفظہ اللہ موصوف نے بھی مختصر وقت میں اپنے موضوع "توبہ واستغفار کی اہمیت وفضیلت” بڑی حد تک وضاحت فرمائی،شیخ نے فرمایا :اللہ کی رحمت سب کے لیے عام ہے، ہم میں سے ہرشخص خطاکار ہے لیکن حدیث کی روشنی میں سب سے بہتر خطا کار وہ ہے جو اس کے بعد صد ق دل سے توبہ واستغفار کرے، توبہ واستغفار کو ہم اپنی زندگیوں کا جزو لازم بنائیں-

پروگرام کے اخیر میں صدر جلسہ شیخ داؤد احمد فیضی حفظہ اللہ نے پروگرام کے تئیں اپنی قیمتی تاثرات کو پیش کیا، شیخ نے مختصر وقت میں اور مختصر الفاظ میں پورے پروگرام کا خلاصہ بڑی ہی ہنر مندی سے پیش کیا ، موصوف نے فرمایا کہ اس طرح کے دینی واصلاحی پروگرام کا انعقاد گاہے بگاہے کرتے رہنا چاہیے کیونکہ وقفے وقفے سے وعظ ونصیحت دلوں پر لگے زنگ کو دھو دیتی ہے اور اس سے لوگوں کا ایمان تازہ ہوجایا کرتا ہے، موصوف نے جملہ متعاونین، مقرر ین اور منتظمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
اور اس کے بعد پروگرام اختتا م پذیر ہوا سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لاالہ الا انت واستغفرک واتوب الیک-