Best Offer

کیجریوال کے گھر پر سَنگھیوں کا حملہ: لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

ازقلم: سمیع اللہ خان

آر ایس ایس کا چھوٹا ریچارج یعنی کہ دہلی کا وزیراعلیٰ اروند کیجریوال آج فریاد کر رہا ہے کہ بھاجپا کے سَنگھی فسادیوں نے اس کے گھر پر حملہ کیا ہے توڑ پھوڑ کی ہے، کیونکہ اس نے کشمیر فائلس نامی فلم کےمتعلق کچھ متنازعہ تبصرے کیے تھے واضح رہے کہ کیجریوال نے کشمیر فائلس کےخلاف بیان نہیں دیا تھا بلکہ اس فلم کےمتعلق بیان دیا تھا، یہ کیجریوال وہی سَنگھی کیجریوال ہے جس کی وزارت اعلیٰ میں مسلم۔مخالف دہلی فسادات رونما ہوئے تھے، اس نے مسلمانوں پر ہندوتوا دہشتگردوں کے بھیانک مظالم کو ہونے دیا اور بعد میں اس دنگے کے الزام میں متحرک مسلمانوں کو پھنسانے میں آر ایس ایس کی پولیس کو مکمل تعاون پیش کیا، کیجریوال نے دہلی فسادات کے ہندو متاثرین کو گلے لگایا اور مسلمانوں کےساتھ سوتیلا سلوک کرنے کی بہت کوششیں کیں، اپنی پارٹی کے مسلمان لیڈر طاہر حسین کو بھی برباد ہونے چھوڑ دیا، کیجریوال کو جب کوئی کتا بھی نہیں پوچھتا تھا اُس وقت کیجریوال کی مدد کرنے والے خالد سیفی جیسے باعمل باکردار اور بلند اخلاق کے حامل بہادر مسلم لیڈر کو بھی یو۔اے۔پی۔اے کےتحت جیل میں برباد کرنے میں کیجریوال کا بھی ہاتھ ہے، کیجریوال انتہائی گھٹیا مسلم دشمن ذہنیت کا حامل نفرتی سیاستدان ہے البتہ اس کی نفرت کا معیار تھوڑا دوسرا اور زیادہ خطرناک ہوتاہے کیونکہ وہ تعلیمیافتہ سَنگھی ہے،
ہم نے دہلی کے گراؤنڈ پر دہلی فسادات کی ہاہاکار اور لاشوں کے بازار میں کیجریوال کی سفّاک مسلم دشمن سیاست کو بچشمِ خود ملاحظہ کیا ہے لہذا مجھے اس آدمی سے ادنیٰ سی ہمدردی نہیں ہے، پنجاب میں اس کی جیت سے غلط فہمی مت پالیے، پنجاب میں اس کی جیت آر ایس ایس کے طویل مدتی منصوبے کا حصہ ہے، آپ دیکھ لیں گے کہ پنجاب کی سرحدی ریاست میں یہ آدمی کس طرح سَنگھ کے اکھنڈ بھارتی پالیسیوں کو رفتہ رفتہ نافذ کرےگا،
تشدد کہیں بھی ہو ناجائز ہے، کیجریوال کو دہلی میں جس تشدد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہ اس کے ہاتھوں کی کمائی ہے، دہلی فسادات کے دوران جن ہندوتوا غنڈوں کو کیجریوال نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا آج ان کا رخ کیجریوال کے گھر کی طرف ہے تو یہ بات آشکار ہونی چاہیے کہ نفرت کی کاشت خواہ کوئی کرے اس کی لپٹوں سے وہ خود بھی بچ نہیں سکتا ہے، کیجریوال کے گھر پر جو آگ پہنچی ہے وہ خود کیجریوال کی لگائی ہوئی ہے۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

Check Also

کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمینائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ حجاب مسئلہ پر کرناٹک …