Best Offer

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

تحریر: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

عدالتیں مہربان اور ملزم کے سر پر وقت کا ہاتھ ہو تو پھر چاندی ہی چاندی ہے۔
آپ واٹس ایپ پر آزادی رائے کے استعمال سے یا سرکار سے سوال پوچھ کر دیکھیے ؟؟؟
کیسے کیسے ڈراوے اور سزائیں آپ کی منتظر ہیں۔افغانستان میں پر امن جمیوریت کے آغاز پر آپ نے کچھ لکھا اور انتظامیہ حرکت میں آگیا اس سے پہلے چاٹو گودی میڈیا آپ کی گو شمالی کے لیے کیل کانٹوں سے لیس میدان میں فریق ثانی اور برسراقتدار کی حمایت کا کردار ادا کرنے کے لیے مستعد۔چیخ وپکاراور کاٹنے دوڑتا دکھائی دیتا ہے۔
کوئی اعلانیہ بھیڑ کو بھڑ کائے، گولی مارنے پر اکسائے، بھیڑ کسی کی جان لے لےتو یہ جرم اس لیے نہیں کہ کہنے والا مسکراہٹ سجائے کہہ رہا تھا ۔

میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں

بلی بائی اور سلی ڈیلز ایپ پر مسلم باوقار خواتین اور ملک کی تعلیم یافتہ بیٹیوں کا آکشن کرنے اور ان کی عزت کی بولی لگانے والوں کی ضمانت اس بنیاد پر ہونے لگے کہ
"ملزموں نے پہلی بار جرم کیا ہے انھیں طویل عرصے جیل میں رکھنا مناسب نہیں ” اور انھیں اس بنیاد پرآسانی سے ضمانت مل جاتی ہے” ۔ نیرج بیشنوئ، اور امکار ایشور ٹھاکر نے سیکڑوں عورتوں کی بولی لگائی جو پڑھی لکھی مسلم نمائندہ خواتین تھیں۔ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر کیا کچھ نہیں لکھا گیا۔
بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ،ناری سمان کا نعرہ لگانے والے بھوےوشال دیش جس کے بھائ چارے اور مانو تا اور پراچین سبھیتا پر ناز ہے۔وہ ملک کہاں جارہا ہے۔؟؟؟؟
وشو گروبنے والے، اور بڑی جمہوریت کا ڈنکا بجانے والے عدالت، میڈیا اور پولس انتظامیہ فیصلوں کے مآپ دنڈ اگر دوہرے معیار کے پیش کرے تو تعجب ہونا فطری امر ہے۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

انصاف پسند ججوں کے فوری تبادلے ہوں یا ان کی موت، حق کی آواز بلند کرنے والے Activist کی آواز دبانا انھین جیلوں میں بند کر دیناہو یا ڈر اور خوف کی فضا قائم کرنے کے لیے ایجنسیوں کا قہر۔بے قصور یونیورسٹی طالب علم کا اچانک غائب ہوجانا۔ باوقار ذمہ داری سےسبکدوش ہوتے ہی ایک اعلیٰ منصب پر فائز کردینا، سر عام قتل کی دھمکی دیناجینوسائٹ پر اکسانا اور جلد ضمانت کا مل جانا وام کوسب کچھ یاد ہے۔

میں یوں تو بھول جاتا ہوں خراشیں تلخ باتوں کی
مگر جو زخم گہرے دیں وہ رویّے یاد رکھتا ہوں

کس کی مجال ہے یہاں جو عدالتی فیصلے پر لب کشائی کرے؟؟۔ہاں لیکن انصاف کے منتظر اور بھی ہیں ۔مسلمانوں کی یہ بیٹںاں سر پر اوڑھنی اوڑھے ،اپنے جسم کو چھپائے پڑھنا چاہتی ہے ان کے امتحان سر پر ہے ان کی تعلیمی مستقبل کے لیے بھی انصاف کی ضرورت ہے ۔بے قصور طلبہ اور لڑکیاں اب بھی سالوں سے جیل میں بند ہیں ۔وہ بھی آپ کی وسیع النظر ی اور انسانی بنیادوں پر توجّہ، انصاف چاہتے ہیں ۔ایسے سیکڑوں لوگ ہیں جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، وہ بھی کم عمر طالب علم اور بھارت کا مستقبل ہیں۔

وہی قانون فطرت ہے جسے تقدیر کہتے ہیں
جسے قسمت سمجھتے ہیں وہ تدبیروں کا حاصل ہے

عبدالعظیم رحمانی ملکا پوری