Best Offer

توبہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم انعام

ازقلم: محمد مہتاب عالم ارریاوی

جو انسان گناہ کا مرتکب ہو رہا ہو یا ہوچکا ہو وہ ان سے کیسے جان چھڑاۓ اور نیکی والی زندگی کو کیسے شروع کرے؟ اس عمل کو توبہ کہتے ہیں(هى رجوع العبد الى الله) یہ بندے کا اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرنا ہے۔
ہر انسان کے لئے یہ ضروری ھے کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے چاہے وہ گناہ کا مرتکب ہو یا نہ ہو ( حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اے ایمان والو تم اللہ تعالی کی طرف توبہ کرو یقیناً میں دن میں سو سے زائد مرتبہ توبہ کرتا ہوں)دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ (اللہ تعالی بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا جب تک کہ اس کی جان حلق میں نہ اٹک جاۓ) اسلئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ رب العزت کی طرف لوٹ آئیں۔
توبہ کرنا مبتدی کو بھی ضروری ھے اور منتہی کو بھی
سالک کو بھی اور واصل کو بھی تلمیذ کو بھی تمہید کو بھی۔ گویا ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے چاہے اسکے گناہ کا ارتکاب حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے
گناہگار بندہ جب اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ھے تو اللہ تعالی اس بندے سے اس قدر خوش ہوتا جیسے ایک آدمی ایک بیابان جنگل میں ہو اور اس کے پاس ایک گھوڑا ہو جس پر اس شخص کا توشئہ سفر ہو اور اسے وہ گھوڑا چھوٹ جائے یعنی گم ہو جائے اور وہ شخص مایوس ہو کر ایک درخت کے پاس آکر لیٹ جائے اور اس کی آنکھیں بند ہو جائے اور جب ان کی آنکھیں کھلے تو اپنے گھوڑے کو اپنے پاس کھڑا ہوا دیکھے تو خوشی میں یہ کہے کہ اے اللہ تو میرا بندا اور میں تیرا رب ،،،
تو اللہ تعالی اس بندے سے زیادہ ایک توبہ کرنے والے بندے سے خوش ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں توبہ و استغفار کرنے والے بندوں کے لئے صرف معافی اور بخشش ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و محبت اور اس کے پیار کی بشارت سنائی گئی ہے، ارشاد باری ہے ”انَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ ویُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ“ (بقرہ، آیت ۲۲۲) ”بے شک اللہ محبت رکھتا ہے توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتا ہے پاک صاف رہنے والوں سے غلطی اور گناہ کا احساس اور پھر گریہ و زاری اللہ کو بہت پسند ہے، جب کوئی انسان جرم اور گناہ کرنے کے بعداپنے مالک حقیقی کے سامنے روتا ہے تو وہ اس سے بے انتہا خوش ہوتا ہے گویا اس نے اپنی بندگی، عاجزی اور اللہ کی عظمت کااعتراف کرلیا اور یہی وہ تصور ہے جس کے استحکام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب اور بڑی نعمتوں اور رحمتوں کا وعدہ فرمایا ہے اب ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی بیبسی کو اللہ تعالی کے سامنے ظاہر کرتے ہوئے آنے والے بابرکت مہینہ رمضان المبارک میں اپنے آپ کو سنوارتے ہوۓ مستقبل کو بہتر بنائیں اور اللہ تعالی سے کی طرف لوٹ آئیں اسلئے کہ رمضان المبارک کی بہت ساری فضیلت ھے حضرت جبرائیل علیہ سلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، جس پر حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین! حضرت جبرائیل علیہ سلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ﷺ کا آمین کہنا اس دعا سے ہمیں رمضان کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہئے اخیر میں اللہ تعالی سے دعاء گوہ ھیکہ ہم سب کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے آمین

ظالم ابھی ھے فرصت توبہ نہ دیر کر
وہ بھی گرا نہیں جو گرا پھر سنبھل گیا

Check Also

میری نماز چھوٹنے کا گناہ کس کے سر پر؟

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی آج عصر کی نماز پڑھ کر اہلیہ کے ساتھ بازار …