Best Offer

کچھ دیر کتاب”ملفوظات مع مختصر سوانح” کی چھاؤں تلے

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
جامعہ نعمانیہ، ویکوٹہ، آندھرا پردیش

ماضی قریب میں علماء ہند نے علم حدیث کی تعلیم وتشریح اور ترویج میں بے مثال کارنامہ انجام دیا ہے، ان علماء ہند میں "مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور” کا نام سب سے نمایاں ہے۔ ابوداؤدکی شرح بذل المجہود،(حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رح) مؤطاامام مالک کی شرح اوجز المسالک(شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رح) اور بخاری شریف کی شرح "نبراس السارى الی ریاض البخاری”۔
آخر الذکر امیر المومنین فی الحدیث حضرت مولانا محمد یونس جو نپوری قدس سرہٗ (سابق شیخ الحدیث:مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور) کی شرح بخاری ہے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جون پوری رحمہ اللہ کی پوری زندگی درس و تدریس اور خصوصاً علم حدیث کی تدریس سے عبارت رہی ہے، پورے برصغیر ہی کیا عالم اسلام میں آپ کو ایک ایسی خصوصیت حاصل ہے جس کا ثانی ڈھونڈے نہیں ملتا آپ کو مکمل پچاس سال تک بخاری شریف جیسی عظیم الشان کتاب کا درس دینے کا شرف حاصل ہے۔
آپ اس قحط الرجال دور میں فن حدیث و علم حدیث میں پوری دنیا میں مرجع کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے، آپ کے انتقال کے بعد آپ سے متعلق عربی و اردو میں کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، راقم الحروف کو اب تک کئی مضامین اور باضابطہ طور پر تین کتابیں از اول تا انتہا مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہے۔
(1) "مجالس محدث العصر”(استاذ محترم حضرت مولانا فیصل احمد صاحب ندوی بھٹکلی دامت برکاتہم:استاذ حدیث مادر علمی:دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
(2)” سوانح حضرت مولانا شیخ یونس رحمہ اللہ (حضرت مولانا محمود حسن حسنی ندوی دامت برکاتہم)
(3)”ملفوظات مع مختصر سوانح”(حضرت مفتی محمد جابر بن عمر صاحب پالن پوری استاذ:جامعہ قاسمیہ عربیہ کھروڈ،بھروچ،گجرات)
اس وقت آخر الذکر کتاب میرے سامنے ہے( تین دن قبل یعنی 21/شعبان المعظم، 1443/ھ مطابق 25/مارچ، 2022/ء،کو مکمل مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔)
یہ کتاب 558/صفحات پر مشتمل ہے، میرے سامنے جو نسخہ ہے یہ تیسرا ایڈیشن ہے، کتاب پر "کلمات دعائیہ” عالم اسلام کے نامور عالم دین شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا ہے، "مقدمہ” استاذ محترم حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم (ناظم:ندوۃ العلماء لکھنؤ) اسی طرح کتاب پر دو ایک اور اکابر امت کے دعائیہ کلمات ہیں۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جون پوری رحمہ اللہ کی شخصیت کے بارے میں مقدمہ کتاب میں آپ کے معاصر مرشد امت حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں:
۔۔۔۔ ہماری ایک معاصر، صاحب فضل و کمال شخصیت حضرت مولانا محمد یونس جون پوری رحمہ اللہ کی گذری ہے، جو برصغیر کی معروف اور مستند دینی درسگاہ مظاہر علوم کے شیخ الحدیث تھے، اور ان کی شہرت اپنے ادارے اور ملک کے باہر بلادِ عربیہ اور دوسرے ممالک اسلامیہ میں بھی حدیث کے ایک بڑے عالم کے طور پر اور مربی و مرشد شخصیت کے طور پر بھی تھی۔
کتاب کے کور پیج پر تعارف کتاب اس طرح درج ہے "علم حدیث سے متعلق بیش بہا معلومات، اصلاح و تربیت کے سلسلے میں گراں قدر ہدایات، دسیوں علمی افادات، قیمتی ملفوظات، تجربات، مشاہدات اور خلفاء کی فہرست پر مشتمل مجموعہ۔
کتاب میں ابواب کا نظم نہیں ہے تاہم تعارف کتاب کے لئے ہم اس کو دو ابواب میں تقسیم کر سکتے ہیں، پہلا باب مرتب کا ہے جس میں دو فصل ہیں، فصل اول :مختصر سوانح، یہ چھپن 56/صفحات پر دریا بکوزہ کی مانند ہے،فصل دوم: ملفوظات بروایت صاحب مرتب کتاب، جو تقریباً سوا دو سو صفحات پر مختلف عناوین کے تحت ہیں جو اس طرح ہے (1) عقائد (2) عبادات (3)معاملات (4)معاشرت (5)طلب علم (6)تصوف و سلوک(7)دعوت و تبلیغ (8)متفرقات۔
دوسرا باب: یہ بھی ملفوظات پر مشتمل ہے اس کے راوی مختلف حضرات ہیں، ترتیب اس طرح ہے (1)حضرت مولانا حنیف صاحب لوہاروی دامت برکاتہم (شیخ الحدیث:جامعہ قاسمیہ عربیہ،کھروڈ،بھروچ گجرات)
(2)حضرت مفتی ادریس صاحب موسالی دامت برکاتہم (استاذ حدیث:جامعہ قاسمیہ عربیہ کھروڈ،گجرات)(3)حضرت مفتی زبیر صاحب ڈونگری دامت برکاتہم (استاذ حدیث و فقہ:جامعہ قاسمیہ عربیہ کھروڈ،گجرات)(4)حضرت مفتی آصف صاحب بھلسوی (استاذ:مدرسہ ناشر العلوم،سہارنپور)(5)مولانا یوسف شبیر احمد صاحب دامت برکاتہم (بلیک برن،یو کے۔)(6)مولانا محمد امین کھولوڑی فلاحی زید علمہ و کرمہ (استاذ:دارالعلوم فلاح دارین،ترکیسر)(6)مفتی محمد انور ہتھوڑوی (استاذ عربی و شعبہ تجوید دارالعلوم ہدایت الاسلام عالی پور،نوساری،گجرات)(7)مولانا ہاشم صاحب فرخ آبادی (خادم خاص:حضرت شیخ یونس علیہ الرحمہ)(8)ماخوذ کتاب”شیخ الحدیث حضرت مولانا یونس صاحب رح“(مؤلفہ:حضرت مولانا محمود حسن حسنی ندوی،استاذ:دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)(9)منتخب از ماہنامہ مظاہر علوم بابت: 1998/ء وبابت: 2017/ء(10)از کتاب التوحید/تقریر بخاری شریف شیخ محمد یونس جون پوری رح(11)مفتی محمد مصطفی صاحب مظاہری (مدرس دارالعلوم جامعہ صدیقیہ،جام پور،مغربی بنگال)(12)منتخب از بیاض مولوی سید نشاط عالم مظاہری گریڈیہوی، بحوالہ: ماہنامہ مظاہر علوم (13) مفتی صدیق اللہ صاحب مہتمم دارالعلوم یونسیہ، مغربی بنگال (14)حضرت مولانا مفتی لیاقت علی صاحب (تلمیذ رشید حضرت شیخ رحمہ اللہ،24/پرگنہ،بنگال) (15)حضرت مولانا عبدالرحیم لمباڈا مدظلہ (منتخب از:مضمون حرمین)(16) حضرت مفتی سلمان صاحب ومفتی عفان صاحب منصور پوری مدظلہما (17)حضرت مولانا نورعالم خلیل امینی رحمہ اللہ (مقالہ”نقوش جاوداں“) (18)مولانا عبدالاحد فلاحی دامت برکاتہم (19)مفتی محمد طلحہ مظاہری صاحب دامت برکاتہم (ماخوذ از:کتاب”وہ جو بیچتے ہیں دوائے دل“) اخیر کتاب میں فہرست خلفاء و مجازین ہے جس میں 76/اسماء ہیں اسی کے ساتھ مرتب نوٹ میں لکھتے ہیں: "یاد رہے مذکورہ فہرست احقر کی معلومات کے مطابق ہے۔
بعض ملفوظات درس بخاری کے درمیان کاہے اس لیے اس پر اسی کا رنگ غالب ہے اس میں زیادہ تر طالبان علوم نبوت مخاطب ہیں، بعض خصوصی مجالس میں محفوظ کیا گیا ہے جس میں عوام بھی رہتے تھے اس لیے اس میں اس کی بھی جھلک ہے، ایسے مجموعی طور پر یہ اقوال زریں کا خوبصورت اور سنہرا گلدستہ ہے جس میں مختلف اقسام کے خوشبو ریز گُل ہیں، جس سے پھوٹنے والی خوشبو قاری کے دل ودماغ کو معطر رکھتی ہے۔
نیز مرتب نے ان بکھرے ہوئے درنایاب موتیوں کو لڑی میں پرونے کا کام اس قدر حسین طور پر انجام دیا ہے جس سے قاری محسوس کرتا ہے کہ صاحب ملفوظات سامنے اپنے دہن مبارک سے پھول بکھیر رہے ہیں اور قاری سامع وساکت ہوکر محظوظ ہورہا ہے، اس کا ادراک وہ قاری زیادہ کر سکتے ہیں جسے کبھی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے درس یا مجالس میں بیٹھنے کا موقع ملا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر و بیشتر ملفوظات روایت بالمعنی کے بجائے روایت بالالفاظ ہے، خصوصاً مرتب کتاب کا جمع کردہ کل کا کل روایت بالالفاظ ہے، بعض مقام پر جہاں حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری کوئی اولاد نہیں ہے مجھے کون یاد رکھے گا، پڑھ کر دل بھر آتا ہے اور بے ساختہ حضرت رحمہ اللہ کے لیے کتاب بند کر کے کچھ نا کچھ ایصال ثواب کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
جہاں بھی کتاب میں اس طرح درخواست ہے وہاں سے یوں ہی گذرنا دل پر ایک بوجھ سا معلوم ہوتا ہے سچ کہا ہے:
از دل خیزد بر دل ریزد
کتاب میں دو ایک مقام پر تکرار ہے لیکن اس کی وجہ مرتب” عرض مرتب "کے تحت لکھ چکے ہیں اس لئے گراں معلوم نہیں ہوتا، خلاصہ یہ کہ کتاب حضرت رحمہ اللہ کی قیمتی گفتگو پر مشتمل بشکل الفاظ کے قالب میں ہے، جب چاہیں ورق گردانی کرکے حضرت کی گفتگو سے محظوظ ہولیں۔
نیز یہاں یہ بتانا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کتاب ہذا طبع سوم ہے اس کے باوجود کتاب میں دسیوں مقام پر کمپوزنگ میں غلطی ہے البتہ غلطی یہ ہے کہ ایک لفظ دوسرے لفظ سے مل گیا ہےایک دو مثال مشاہدہ کریں صفحہ نمبر 26/”پہلیبیوی”(پہلی بیوی) صفحہ 34/”تعلیمیںحرج”(تعلیم میں حرج) اگلے صفحہ 35/”یکسوتھ”(یکسو تھے) صفحہ 41/پر "قبلفرمایا” وغیرہ وغیرہ
اسی کے ساتھ کتاب ظاہری وباطنی ہر اعتبار سے دیدہ زیب و دلکش ہے، صفحات بہت ہی عمدہ اور رنگین ہے جو ہر قاری کو اپنی جانب کھینچتی ہے، اس قیمتی علمی تحفہ پیش کرنے پر مرتب کتاب علم دوست کی طرف سے قابل مبارک باد ہیں، اللہ تعالی انہیں اس کا اجر جزیل عطاء فرمائے۔ (آمین)