Best Offer

طلبہ اپنے گھروں میں دینی ماحول بنانے اوو رتعلیمی بیداری لانے کا کام کریں

جامعہ دار العلوم اسعدیہ میں ختم بخاری شریف کے موقع پر طالبات کو مفتی مزمل حسیین قاسمی کی نصیحت

انبالہ/جالندھر: 29 مارچ، ہماری آواز(پریس ریلیز)
سرساوہ میں واقع جامعہ دار ا لعلوم اسعدیہ میں ختم بخاری شریف کے موقع پرایک تقریب کا انعقاد عمل میں آیا ، جس میں ادارہ کی ایک درجن طلبہ کو سند فضیلت دی گئی، اس موقع پر دار العلوم دیوبند کے استاذحدیث مفتی مزمل حسین قاسمی بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب کی شروعات انما الاعمال بالنیات سے کرے ہلکے ہیں، مگر قیامت کے دن ان کا وزن بہت زیادہ ہوگا، حدیث کی تشریح کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اپنی صفت عدل کا اظہار فرمانے ئیں گے، اوراس کے لئے میزان عدل بھی قائم فرمائیںگے، جس سے ہر انسان کے قول وعمل کو تولا جائے گا، عقل پرستوں کا اشکال ہے کہ قول اور عمل تو جسم سے خالی ہوتے ہیں، پھر ان کا وزن کیسے ہوگا؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ آخرت کو دنیا پرقیاس کرنا ہی سراسر غلط ہے، دوسری بات یہ ہے کہ آج سائنس کے ذریعہ ہوا کی پیمائش ہورہی ہے ، گرمی سردی کو تولا جارہا ہے، بخاری کی مقدار کا وزن ہوجاتا ہے، حالانکہ یہ ساری چیزیں جسم سے خالی ہیں، اگر اللہ تعالی قول وعمل کا وزن کر دیں توحیرت کیوں؟ انہوں نے کہا کہ بخاری شریف کے تراجم بڑے ہی معنی خیز ہوتے ہیں، مولانامفتی مزل قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرہ میں جتنی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے اتنی ہی عورت کو بھی حصہ دار بنایا گیا ہے، اسلام نے عورت کو اہمیت وعزت دی ہے اور اسی نے مرد وعورت کی ذمہ داریوں کو الگ الگ تقسیم کیا ہے، جو مرتبہ اسلام نے عورت کو دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا، مولانا نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ہے ،آپ خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے آپ کو علم حاصل کرنے کا موقع دیا ، آپ اپنے گھروں میں دینی ماحول بنانے اور تعلیمی بیداری لانے کا کام کیجئے، جس میں کامیاب زندگی ممکن ہے، مولانا نے کہا کہ بغیر تعلیم کے ہم بے حیثیت ہیں ، تعلیم ہمیں عزت دیتی ہے، اور ہمارے وجود کو مضبوط کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ بچیوں کوتعلیم دلانا بہت ضروری ہے، تاکہ وہ آنے والے وقت میں آنے والی نسلوں کی بہترین تعلیم وتربیت کا انتظام کرسکیں ، انہوں نے کہا کہ تعلیم وتربیت دو نوں الگ الگ چیزیں ہیں، دونوں پر ہی آپ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کی کے یہ سبق دیا کہ آدمی خواہ کتنے ہی اعمال او ر کتنی ہی نیکیاںسر انجام دے دے، اگر نیت درست نہیں ہے ، تو ساری کاوشیں بیکار ہیں ،
حدیث شریف میں واضح طور پر آیا ہے کہ پوری دنیا فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور دنیا کی سب سے نافع مند چیز صالح عورت ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر عورت کو ایسی زندگی گزارنی چاہئے کہ حدیث کی زبان میں اس کو صالح عورت کہا جاسکے اور اسکے لئے ضروری ہے کہ عورت کے پاس بقدر ضرورت دین کا علم بھی ہو اور علم کے ساتھ دین کے مطابق زندگی گزارنے کا مزاج بھی ہو، یہ ادارے اس طرح ککا مزاج پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو قابل مبارکباد ہیں، مولانا نے کہا کہ جو طلبہ علم حاصل کرکے اس ادارہ سے جارہی ہیں ان کے اوپر ذمہ داری زیادہ بڑھ جاتی ہے، لہٰذا تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس کا عملی نمونہ اپنی زندگی، اپنے مزاج اور اخلاق کے ذریعہ پیش کریں۔
ادارہ کے مہتمم مفتی احمد خورشید قاسمی نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میںانٹرنیٹ کی برائیوں نے تیزی سے رفتار پکڑی ہے، ایسے حالات میں ہمیںبرائیویںسے بچنے کے لئے مستعد رہنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ موبائل سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں، آج کے دور میں یہ موبائل برائیوں کی جڑہے، اسی کے ساتھ پردے پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا نے کہ عورت کے لئے پردہ کا اہتمام نہایت ضروری ہے ، اس فتنہ کے دور میں پردہ عورت کی حفاظت کا ذریعہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ بچیوں کو بھی دینی وعصری تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس دوران ادارہ کے ناظم تعلیمات مولوی عثمان خورشیدی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سالانہ رپورٹ پیش کی، پروگرام کی صدارت مفتی مزمل حسین قاسمی نے کی اور نظامت کے فرائض مفتی صادق نے انجام دئے، پروگرام کا اختتام پیر جی حسین بوڑیہ کی دعا پر ہوا۔
اس موقع پر قاری سعید، مولانا اسجد قاسمی، مولانا گلفام امام مرکز، مولانا عبد العظیم قاسمی، مولانا سلطان اسعدی، مولانا اسعد،مولانا اعظم، مفتی فرمان مجددی، قاری ارشد، قااری امجد،مفتی عادل ، قاضی اقبال، مولوی اکرم، سلیم سلمانی، ارشاد غازی سہیل غازی، اسراربھائی،بھائی عابد، بھائی نثار، قاری محمد بلال حافظ گلزار وغیرہ موجود رہے ۔