Best Offer

حضرت عمر فاروق حیات اور کارنامے

از قلم: محمد ریحان ورنگلی
متعلم: ادارہ اشرف العلوم حیدر آباد

نام مبارک آپ کا عمر ہے لقب فاروق کنیت ابو حفص نصب آپ کا نویں پشت میں رسول اللہﷺ سے ملتا ہے، آپ ﷺ کی نویں پشت میں ایک نام کعب ہے، کعب کے دو فرزند تھے، مرہ اور عدی، مرہ کی اولاد میں آپﷺ تھے، اور عدی کی اولاد میں حضرت عمر فاروق ؓ تھے، ولادت سراپا بشارت آپؓ کی واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد ہوئی ، عمر آپ ؓ کی ترسٹھ سال کی ہوئی ، نبوت کے چھٹے سال ستائیں سال کی عمر میں اسلام لاۓ، آپؓ سےپہلے چالیس مرد اور گیارہ عورتیں مسلمان ہوچکی تھیں،بہت بہادر اور طاقتور تھے ، اسلام سے پہلے جیسی شدت کفر میں تھے ویسی ہی شدت اسلام میں تھی، ان کے مسلمان ہونے سے دین اسلام کو بہت زیادہ قوت ملی،دس برس چھ مہینے پانچ دن تخت خلافت کو زینت دی ، فجر کی نماز میں ابولؤلؤ مجوسی کے ہاتھ سے شہید ہوۓ، اور یکم محرم الحرام ٢٤ھ کو اس دار فانی سے رحلت فرماۓ، اور روضہ نبویﷺ میں حضرت صدیقؓ کے پہلو میں مدفن پایا ۔

حالات بعد اسلام و قبل ہجرت
ان کا اسلام لانا بھی آپﷺ کا ایک معجزہ تھا، کئی دن سے آپﷺ دعائیں مانگ رہے تھے کہ اے اللہ دین اسلام کو عمر بن الخطاب سے عزت دے آپﷺ کی وہ دعائیں قبول ہوئیں، ان کے اسلام لانے کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ ایک دن عمر اپنی ہاتھ میں تلوار لے کر چلے کہ آج محمدﷺ کا کھیل ہی تمام کردوں گا راستہ میں ایک صحابی نے پوچھا اے عمر کہاں کا ارادہ ہے؟ تو عمر نے کہا کہ تمہارے پیغمبر کو قتل کرنے جارہا ہوں تو انھوں نے کہا کہ تمہارے گھر کے لوگ اسلام میں داخل ہورہے ہیں تو عمر نے پوچھا کہ کون کون ایمان لاۓ تو انھوں نے کہا کہ تمہاری بہن فاطمہ اور بہنوی سعید بن زید ایمان لاۓ ہیں عمر غصہ میں اپنی بہن کے گھر گے اور بہن اور بہنوی کو خوب مارا عمر کو دیکھ کر انکی بہن نے کہا کہ اے عمر ہم ایمان قبول کرچکے ہیں تم کو جو کرنا ہے کرو تو عمر اپنی زخمی بہن کو دیکھ کر نرم پڑگے اور کہا کہ وہ صحیفے مجھے بھی بتاؤ جو محمد لاۓ ہیں تو بہن نے کہا کہ اسے ناپاک لوگ نہیں چھوسکتے اس کے بعد سورہ طہ کی آیتیں سنائی گئی ان آیتوں کے سننے کی وجہ سے آپؓ کی طبیعت میں ایک انقلابِ عظیم پیدا ہوا اسی وقت آپﷺ کی خدمت میں حاضری ہوئی تو آپﷺ نے ان کو اپنی طرف کھینچا اور پوچھا عمر کیا ارادہ ہے؟تو انھوں نے کہا ہے کہ ایمان لانے آیا ہوں یہ سن کر آپﷺ نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔حضرت عمر فاروقؓ آپﷺ سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ گے اور بڑی شان سے ہجرت کی جب مکہ سے چلنے لگے تو خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مجمع کفار سے کہا کہ میں اس وقت ہجرت کررہا ہوں یہ نہ کہنا کہ عمر چھپ کر بھاگ گیا جس کو اپنی بیوی کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کرنا ہو وہ مجھے روک لے مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ کچھ جواب دے ۔

حالات بعد ہجرت
ہجرت کے بعد سب سے بڑی خدمت مغازی کی تو اس میں حضرت عمرؓ سے کون سبقت لےجاسکتا تھا آپﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے اور پسندیدہ خدمات انجام دی ، جن میں سے غزوہ بنی مصطلق ہے ، اس غزوہ میں لشکر کا مقدمہ آپؓ ہی کے ماتحتی میں تھا، اور آپ ہی نے کافروں کے جاسوس کو گرفتار کیا ، اور دشمن کے تمام خفیہ حالات معلوم کرکے اس جاسوس کو قتل کردیا ، اس واقعہ سے بڑارعب کافروں پر طاری ہوا، اس غزوہ میں یہ خدمت بھی ان ہی کے سپرد کئی گئی کہ عین ہنگامہ کے وقت جنگ میں اعلان کرے کہ جو شخص کلمہ پڑھے گا اسے امان دیدی جاۓ گی ، نیز غزوہ حنین میں جماعت مہاجرین کا ایک جھنڈا آپؓ کے سپرد ہوا، جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جماعت مہاجرین کی سرداری آپ کو عطا کئی گئی ۔

فاروق اعظم کی خلافت
آپؓ کی خلافت قدرتِ کاملہ اور رحمتِ واسعہ کا ایک عجیب نمونہ تھی، جو کمالات آپﷺ کی تعلیم و تربیت نے ان کی ذات میں پیدا کے تھے وہی ان کے عہد خلافت میں ظہور پذیر ہوۓ، اگر آپؓ کے عدل و انصاف، اور فتوحات، اور ملکی انتظامات پر نظر ڈالی جاۓ تو حیرت ہوتی ہے کہ وہ کام آپ نے انجام دۓ جن کا کوئی نمونہ دنیا میں پہلے سے موجود نہ تھا، اگر آپؓ کی دینی خدمات اور روحانی کمالات کو دیکھا جاتا تو آنکھیں خیرہ رہ جاتی ہے، اور صفحات تاریخ میں اس جامعیت کی کوئی مثال نہیں مل سکتی، سچ تو یہ ہے کہ ان کا ہر ہر رویاں اپنے مرشد برحق محمدﷺ کے مطابق تھا ۔

حضرت عمر کے گشت کے چند واقعات
دنیا میں کون بادشاہ ایسا ہے جو خود چوکیدار کا کام انجام دے، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت انسؓ فرماتے ہے کہ ایک شب میں حضرت عمرؓ گشت کررہے تھے کہ ایک اعرابی کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے خیمے سامنے بیٹھا ہوا تھا آپ اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اور اس سے پوچھنے لگے کہ تم اس طرف کیوں آۓ ہو آپؓ اس سے باتیں ہی کررہے تھے کہ اچانک گھر کے اندر سے رونے کی آواز آئی تو آپؓ نے پوچھا کہ یہ رونے کی آواز کس کی ہے؟ تو اس نے کہا کہ یہ بات تم سے تعلق نہیں رکھتی تو آپؓ اپنے گھر آۓ، اور فرمایا: اے ام کلثومؓ کپڑے پہنے اور میرے ساتھ آیۓ چنانچہ آپؓ ام کلثوم ؓ کو لے کر اعرابی کے پاس پہنچے، اور فرمایا: کہ اس عورت کو اندر جانے کی اجازت دیتے ہو ؟ اس اعرابی نے اجازت دیدی، تھوڑی دیر بعد ام کلثوم نے پکار کر کہا کہ اے امیر المؤمنین اپنے ساتھی کو خوشخبری سنادیجے کہ لڑکا پیدا ہوا ہے ۔ بہر حال حضرت فاروق اعظمؓ نے اپنی دس سال کی مدت خلافت میں جس قدر تبلیغ اور تعلیم دین کی فرمائی، اگر کوئی چشم بصیرت سے دیکھنے والا ہوتو وہ کہہ سکتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص بیس سال میں اتنا کام نہیں کرسکتا، حقیقت میں وہ نبی اور امت کے درمیان تبلیغ دین کے لے واسطہ کبری تھے ۔

شہادت فاروقی
مختصر واقعہ آپؓ کی شہادت کا یہ ہے کہ آپؓ نے مدینہ میں ایک خواب دیکھا کہ ایک مرغی آپؓ کے شکم مبارک پر تین چونچیں ماری، اس کے بعد آپؓ نے لوگوں سے خواب بیان کیا اور کہا: کہ میری موت کا وقت قریب ہے، پہر آپؓ اپنے معمول کے مطابق ناز فجر کے لے مسجد تشریف لے گے، اور آپؓ کے ہاتھ میں ایک درہ تھا، آپؓ اس کے سہارے سونے والوں کو جگاتے تھے، پہر آپؓ مسجد میں جاکر نمازیوں کی صفیں درست کرتے تھے، اس دن بھی آپؓ نے اسی طرح کیا، آپ نے صرف تکبیر تحریمہ کہی کہ ابولؤلؤ مجوسی کافر نے آپ کے شکم میں تین زخم کۓ، جو مسجد کے محراب میں چھپا ہوا تھا ، آپؓ اسی وقت بے ہوش ہوگے، حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے آگے بڑھ کر نماز مکمل کی، ابولؤلؤ مجوسی کافر مسجد سے نکلنا چاہا لیکن صحابہ کی صفیں مثل دیوار تھی وہ بھاگ نہ سکا تو اس نے اور صحابہ کو زخمی کرنا شروع کیا، اسی طرح تیرہ صحابی زخمی ہوۓ، اور سات صحابہ جاں بحق ہوۓ، نماز ختم ہوئی ابولؤلؤ پکڑا گیا جب اس نے دیکھا کہ میں پکڑا گیا ہوں تو اس نے اپنے آپ کو ہلاک کردیا، اتنا بڑا واقعہ پیش آیا لیکن کسی نے نماز نہیں توڑی، نماز کے بعد آپؓ کو گھر لے کر گے تھوڑی دیر بعد ہوش آیا تو آپؓ نے اسی حالت میں نماز ادا کی، پہر آپؓ نے سوال کیا کہ میرا قاتل کون ہے ؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا ابولؤلؤ مجوسی کافر یہ سن کر آپؓ نے نعرہ تکبیر بلند کیا، اور کہا کہ اللہ تعالی نے مجھے ایک کافر سے شہادت عطا فرمائی، ٢٧ ذی الحجہ کو بروز بدھ زخمی ہوۓ تھے، اور پانچويں دن یکم محرم الحرام کو بروز یکشنبہ کو ترسٹھ سال کی عمر میں رحلت فرماۓ۔
اِنَّا لِلہ وَ اِنَّا اِلیہ رَاجِعُوْنَ