Best Offer

خورشید انوار عارفی: میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

ڈاکٹر عثمان غنی امارت کمپیوٹر انسٹی چیوٹ ہارون نگر پٹنہ کے صدر، اردو اور انگریزی کے معروف صحافی، اکابر امرت شرعیہ کے معتمد ،مومن کانفرنس کے سابق صدر، اردو انگریزی میں نصف درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ، جناب خورشید انوار عارفی ، ساکن اے 104 حسین الیگنٹ پرل اپارٹمنٹ منہاج نگر پھلواری شریف پٹنہ کا 23فروری 2022کو رات دیر گیے ہندوستانی وقت کے مطابق سوا بارہ بجے لندن میں انتقال ہو گیا، وہ بغرض علاج چند ماہ قبل اپنے بیٹوں کے پاس لندن گیے تھے، موت نے وہیں آلیا اور 23فروری کو بعد نماز ظہر وہیں کی مٹی میں سپرد خاک ہوئے، پس ماندگان میں اہلیہ قدرت النساء ، دو صاحب زادے ضیا عارفی، عمران عارفی مقیم لندن ، دو صاحب زادی فرح عارفی مقیم کولکاتہ ، حنا عارفی مقیم آسٹن امریکہ ہیں۔
خورشید انوار عارفی بن انوار علی بن شیخ مظہر علی کی ولادت 20جنوری 1934کو کوئیلور شاہ آباد میں ہوئی، یہ شاہ آباد اب آرہ ہو گیا ہے، خورشید انوار عارفی کے تین جزمیں سے ایک ان کے والد انوار اور دوسرا عارفی ان خاندان سے منسوب ہے، جس سے ان کا تعلق تھا، کہا جاتا ہے کہ ان کے خاندان کا تعلق حضرت مومن عارف کی نسل سے ہے جو 576ھ میں نقل مکانی کرکے یمن سے ہندوستان آئے تھے، اور منیر شریف میں قیام کیا تھا، جہاں ان کا مزار ہے ۔ اس طرح جو لوگ خورشید انورعارفی بغیر الف کے لکھتے اور بولتے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے ، خورشید انوار عارفی کے دو بھائی اور ہیں، جن میں سے ایک کا نام ہارون انوار عارفی اور چھوٹے کا نہال انوار عارفی ہے، چار بہنیں رابعہ خاتون ، حمیرہ خاتون، سعیدہ خاتون اور نفیسہ خاتون ہیں، جن میں سے حمیرہ دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، بقیہ حی القائم ہیں۔ خورشید انوار عارفی بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ عارفی کی تعلیم وتربیت ان کے والد کے زیر سایہ ہوئی ،ا نہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز، 1957میں پٹنہ کے اخبارات میں کالم نگاری سے کیا، 1963میں ہفت روزہ اخبار صدائے ہند نکالنا شروع کیا، جس کا دفتر شاد مارکیٹ پٹنہ میں تھا، وہ مومن کانفرنس کے ترجمان پندرہ روزہ المؤمن کے مدیر بھی رہے، ہفتہ روزہ عوام دہلی ، نئی دنیا دہلی میں بھی ان کے مضامین کثرت سے شائع ہوا کرتے تھے، پاکستان کے روزنامہ مشرق لاہور میں برسوں وہ” مکتوب بھارت” کے نام سے کالم لکھتے رہے، انہوں نے لندن سے شائع ہونے والے جرہد ہ مساوات کے دہلی نامہ نگار کی حیثیت سے بھی کام کیا، 1980میں انہوں نے دہلی سے پندرہ روزہ با تصویر نیوز میگزین ’’معاملات‘‘ کے نام سے نکالا اور اس کی ادارت کی ذمہ داری خود سنبھالی۔
خورشید انوار عارفی ملی کاموں میں انہتائی پیش پیش رہا کرتے تھے، امارت شرعیہ ، جمعیت علماء، جماعت اسلامی، آل انڈیا ملی کونسل مسلم مجلس مشاورت سبھی سے ان کے تعلقات اور مراسم تھے، وہ ستر کی دہائی میں آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس سے بھی وابستہ رہے، حسب ضرورت وموقع ان جماعتوں، جمیعتوں،ادارے اور تنظیموں کے پروگرام میں شرکت کے لیے وہ وقت نکالا کرتے تھے، اپنی مرنجا مرنج طبیعت، خوش اخلاقی، وضع داری اور صاف صاف بات کہہ گذرنے اور بغیر کسی مفاد کے ان تنظیموں کے لیے وقت نکالنے کی وجہ سے وہ سب کے یہاں مقبول تھے اور ان کی آرا کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، عارفی صاحب کی اردو اور انگریزی بہت مضبوط تھی، ان دونوں زبانوں میں لکھنے ، پڑھنے اور بولنے پر قدرت رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تصنیف وتالیف کا خصوصی ملکہ عطا فرمایا تھا، ان کی چار کتابیں اردو اور اتنی ہی کتابیں انگریزی میں مطبوعہ ہیں، اردو میں ان کی کتاب سفروسیلہ ظفر،میرے شب وروز، ہندوستان انتشار کے بھنور میں،مؤمن تحریک اور انصاری برادری کے نام سے مطبوعہ شکل میں موجود ہے، ہندوستان انتشار کے بھنور میں ان کی انگریزی کتاب INDIA NATION IN TURMOIL کا ترجمہ ہے ، جسے مشہور افسانہ نگار محترمہ ذکیہ مشہدی نے کیا ہے ، جبکہ مومن تحریک اور انصاری برادری کا انگریزی ترجمہ MOMIN MOVEMENT AND ANSARI COMMUNITY کے نام سے موجود ہے، انکی انگریزی میں ایک کتاب ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا پر ہے اور ایک کتاب گجرات فساد کے حوالہ سے GUJRAT BLOT ON THE NATIONکے عنوان سے ہے ، جو اصلا اس مواد پر مشتمل ہے جو امارت شرعیہ کی خدمات کے بارے میں گجرات فساد پر مفتی نسیم احمد قاسمی مرحوم نے تیار کیا تھا، اور جو مطبوعہ شکل میں موجود ہے ، یاد آتا ہے کہ اکابر امارت کی بھی رائے تھی کہ یہ رپورٹ دوسری زبانوں میں بھی شائع ہو چنانچہ عارفی صاحب نے اس رپورٹ کی روشنی میں مستقل ایک کتاب تیار کر دیا ، جس نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔
خورشید انوار عارفی سے ہماری دیرینہ شناشائی تھی ، امارت شرعیہ آنے کے قبل ہی حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ نے میرا تعارف ان سے کرایا تھا، آل انڈیا ملی کونسل اور امارت شرعیہ کے پروگراموں میں ہم لوگ ایک ساتھ رہے، ان کی محنت اور شفقت مجھے ملتی رہی ، میرے کالم جواب ہندوستان بھر کے اخباروں میں چھپنے لگے ہیں، اسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور فون پر حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔
عارف صاحب اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، اللہ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور سیئات سے در گذر کرے، اب تو دعاء مغفرت ہی ان کے لیے بہترین اور مفید ہے ، اسی کا اہتمام ہم سب کو کرنا چاہیے۔