Best Offer

بحر و بر کا ہر فساد انسانی اعمال بد کا نتیجہ ہوتا ہے

تحریر: محمد قاسم ٹانڈوی

مفہوم قرآنی ہےکہ:
"مؤمن مرد اور مؤمن عورتوں کے جان و مال کو اللہ نے جنت کے عوض خرید لیا ہے، سو وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں؛ اس پر توریت و انجیل میں بھی اور قرآن حکیم میں بھی پختہ وعدہ ہے اور اللہ کریم سے بڑھ کر وعد و قرار میں اور کون پکا ہوگا؟ لہذا جو معاملہ تم نے اپنے کریم رب سے کر لیا ہے، اس پر خوش رہو، یہی تمہارے لیے بڑی کامیابی ہے”۔[9/111]
ہماری جانوں کا مالک بھی اللہ ہے اور ہمارے مالوں کا مالک بھی اللہ ہے، اسی کو مذکورہ دونوں چیزوں میں مکمل اختیار ہے کہ وہ کسے جان کے ساتھ مال کی دولت سے نواز کر اس کےلیے اس کی زندگی کو آسان و خوشگوار اور پُرکیف و پُربہار بنائے اور کسے جان دے کر بغیر مال دئے دنیا کے معاملات میں بشکل دقت و دشواری اور تنگی و مجبوری اسے آزمائے؟ اس نے زندگی اور موت کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے تاکہ وہ ہمیں آزما کر دیکھے کہ: ہم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے اور کون روگردانی کرکے اس کی نافرمانی اور بغاوت کرکے اس کی دشمنی مول لیتا ہے؟ اسی لیے اس کے یہاں انسان کو پرکھنے اور آزمانے کا جو معیار اور پیمانہ مقرر کیا گیا ہے، وہ انسان کے اعمال و افعال کا حسن ہے، نہ کہ عبادت و ریاضیت کی کثرت۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ: اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز اور قابل تکریم شخص وہ ہے جو تم میں سب سے بڑا پرہیزگار ہو، بےشک اللہ خوب جاننے اور خوب خبر رکھنے والا ہے۔[49/13]
الغرض اس کے یہاں عظمت و رفعت کی بنیاد صرف تقوی و پرہیزگاری پر رکھی جانی ہے، اس کے علاوہ خاندانی وجاہت، برادرانہ برتری، اعلی ملازمت، پیشہ کی عمدگی، کاروبار کی بہتری اور کارکردگی یا حسب و نسب کی موجودگی اور بلند حصولیابی؛ اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت و وقعت نہیں رکھتیں، اس کے یہاں جہنم کی آگ سے نجات کا دار و مدار ایمان کی دولت اور جنت کے اعلی مراتب کا حصول عبادت کے حسن اور اخلاق کریمانہ کے سبب ہوگا، بدوں دولت ایمانی جہنم میں جانے سے کوئی خود کو بچا نہیں سکےگا۔ جیسا کہ اماں عائشہ صدیقہؓ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا تھا کہ: عائشہ! جنت میں داخلہ ہر شخص کو اس کے اعمال کی بدولت نصیب ہوگا۔ چنانچہ جنت کے اعلی مراتب و مناصب کے حقدار رب کے وہ خوش نصیب بندے ہوں گے، جنھوں نے اپنی اس زندگی کا سودا دنیا میں رہتے ہوئے اپنے کریم رب کے ہاتھوں کیا ہوگا اور اس کے عوض جنت کو خریدا لیا ہوگا۔
انسان کی زندگی انسان کو مختلف حالات و ادوار سے روشناس کراتی ہے، جس میں راحت و سکون کی گھڑیاں بھی شامل ہوتی ہیں اور رنج و کلفت کے مہیب سائے بھی انسان کو گھیرے رہتے ہیں، اس میں مصیبت و پریشانی کا سامنا بھی کرنا ہوتا ہے اور مسرت و شادمانی کا احساس بھی بخوبی ہوتا ہے۔ یہاں کسی کا وقت تو بیشتر حالات میں رنج و غم کے ساتھ گزرتا ہے اور وہ مسلسل مضرت و پریشانی سے دوچار رہتا ہے، تو کبھی اپنے پرایوں کی دلجوئی، دوست احباب کی موجودگی اور وقفے وقفے سے عزیز و اقارب کی جدائیگی سے دل رنجور و مغموم ہوتا ہی رہتا ہے؛ لیکن کہتے ہیں کہ کوئی بھی وقت خواہ پریشان کن ہو یا چاہے فرحت بخش کوئی بھی گھڑی ہو، ہمیشہ کےلیے کسی کا مقدر بن کر نہیں آتے، بلکہ وقت اور موقع کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور زندگی پھر سے اپنے معمول پر عود کر آتی ہے، جیسا کہ نواز دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
وہ رُلا کر ہنس نہ پایا دیر تک
جب میں رو کر مسکرایا دیر تک
بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے
ماں نے پھر پانی پَکایا دیر تک
گنگناتا جا رہا تھا ایک فقیر
دھوپ رہتی ہے نہ سایہ دیر تک
کل اندھیری رات میں میری طرف
ایک جگنو جگمگایا۔۔۔۔۔۔۔۔ دیر تک
اس لیے مصیبت و پریشانی کے عالم میں نہ تو خود کو زیادہ رنجور و مغموم کرنے کی ضرورت ہے، کہ دین و دنیا کا ہمیں پتہ ہی نہ رہے اور یکسوئی و گوشہ نشینی اختیار کر دنیا و مافیہا سے بےخبر ہو جائیں اور نہ ہی خوشی و مسرت کے وقت ہم میں سے کسی کو اپنی اوقات سے باہر ہونے اور حد سے زیادہ بن ٹھن کر خوشی کے اظہار کی اجازت ہے، بلکہ راہ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرتے ہوئے بوقت رنج و غم صبر و تسلی کا دامن تھامے رکھیں اور مسرت و شادمانی کے وقت شکر و احسان بجا لائیں، تاکہ خوشی کے وقت تو ہمارا یہ شکر و احسان بجا لانا اللہ رب العزت کی خوشنودی اور اس کی طرف سے ملنے والی نعمتوں میں مزید اضافہ کا سبب ہو نیز رنج و غم کے وقت ہمارے لیے صبر و تسلی کا اختیار کرنا ہمارے رنج و غم کو کافور کرنے کا بہترین وسیلہ اور حالات کو ہموار و سازگار کرنے میں ہمارے لیے مؤثر ذریعہ ثابت ہو۔
زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے؟ انہی اجزا کا پریشاں ہونا
اعمال و افعال کی انجام دہی میں یہی چیز بلکہ ایمان کی یہی خوبی اہل ایماں سے مطلوب ہے، کہ حالات خواہ مثبت ہوں یا منفی، لوگوں کے رویے تمہارے مزاج کے موافق ہوں یا مخالف، حکومت و سلطنت پر فائز افراد ظلم و تعدی پر آمادہ ہوں یا عدل و انصاف پر قائم، موسم کی آمد و رفت اور ماحول کی تبدیلی تمہارے لیے آرام دہ ہو یا تکلیف دہ؛ ہر حال میں تم کو ایک اللہ کی عبادت و بندگی بجا لانی ہے اور اسی ایک خالق و مالک کی دہلیز و آستانہ پر سر تسلیم خم کرکے بہتر و برتری کی دعا و مناجات کرنی ہے، اپنے اسی ایک حاکم و پالنہار سے پناہ طلب کرنی ہے اور اسی ایک قادر مطلق کی بارگاہ عالی صمد میں ہدیے و نذرانے پیش کرکے مدد و استعانت کی بھیک مانگنی ہے۔ کیونکہ اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہی ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہے اور جب وہ چاہےگا ہمیں موت دےگا اور اس دنیا کے جنجال سے نکال کر ہمیں دوسری دنیا کا مکین بنا دےگا، جس کا اس نے اپنے بندوں سے "إِلیہ تُرجعون” کے ذریعہ وعدہ بھی کیا ہے اور بطور یاد دہانی اپنے کلام مقدس میں جگہ جگہ تذکرہ کرکے بیدار و متنبہ بھی کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
"بھلا کون ہے جو بےقرار کی داد و فریاد کو سنتا ہے، جب وہ اس کو پکارتا ہے اور اس کے دکھ تکلیف کو دور کرتا ہے اور تم کو اس نے زمین میں اپنا خلیفہ بنا رکھا ہے؟”(27/62)
حالات کے غیر موافق ہونے یا معمول سے ہٹنے اور دقت و دشواری کا کثرت کے ساتھ پیش آنے میں اللہ کی مرضی اور اس کی حکمت و مصلحت کو پیش نظر رکھے، حکومت کی سختی، موسم کی بےرخی، مالی دشواری، رزق کی تنگی اولاد کی نافرمانی اور بےجا ہموم و غموم میں؛ بلکہ زندگی کے بیشتر معاملات اور رونما ہونے والے حادثات و واقعات کی نسبت اپنے گناہوں کی نحوست، اعمال بد کا نتیجہ اور خدا کی نافرمانی و اس کے احکام کی خلاف ورزی پر محمول کرے، اس لیے کہ بحر و بر اور خشکی و تری میں جو بھی بگاڑ و فساد واقع ہوتا ہے، وہ بنی نوع انسانی کے سیاہ کرتوت اور بداعمالی کی وجہ سے ہی ہوتا ہے، اور سنت الہی یہی ہے کہ دنیا کے حالات اور لوگوں کے مزاج میں جب جب بھی فساد و بگاڑ واقع ہوتا ہے تو ان کی اصلاح کے واسطے خلاف امر اور مافوق الفطرت حالات پیدا فرماتا ہے اور بطور تنبیہ انسانوں کو آگاہ و باخبر کرتا ہے۔ اس وقت شعور و آگہی رکھنے والے حالات سے سبق لیتے ہیں اور اپنے پروردگار کا شکر و احسان بجا لاتے ہیں اور جو احساس و ادراک کی دولت سے نابلد و محروم ہوتے ہیں یا جن کے مزاج میں رعونت و شیطنت رچی بسی ہوتی ہے، وہ ضد و ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی پر گامزن ہوتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور پیش آمدہ حالات و قرائن سے کوئی سبق اور نصیحت نہیں لینا چاہتا، نتیجتا خائب و خاسر اور ہر قسم کی خیر و عافیت سے محروم و مایوس ہو کر اس دنیا سے رخصت پذیر ہوتے ہیں۔ ایسے ضدی اور نفس کے پجاریوں کو رحمان و رحیم کے یہاں درد ناک عذاب اور ذلت و رسوائی کی مہمانی سے نوازا جائےگا، جسے وہ ہمیشہ ہمیش برداشت کریں گے اور اپنے انجام پر حسرت و افسوس کے آنسو بہائیں گے؛ مگر اس وقت کا رونا یا افسوس کرنا ان کے حق میں کارآمد و مفید ثابت نہ ہوگا اور خدا کے یہ مجرم و باغی جہنم میں پھینک دئے جائیں گے۔
(اللہ پاک ہم سب کی جہنم اور اس کے عذاب سے حفاظت فرمائے اور اپنا فرمانبردار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے؛ آمین)

Check Also

میری نماز چھوٹنے کا گناہ کس کے سر پر؟

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی آج عصر کی نماز پڑھ کر اہلیہ کے ساتھ بازار …