Best Offer

غزل: دھندلا چکا ہے آئینہ اعتبار بھی

ازقلم: مختار تلہری

زینت ہے گلستاں کی خزاں بھی بہار بھی
شاخوں سے لپٹے رہتے ہیں گل اورخار بھی

کیسے یقیں کا چہرہ نظر صاف آ سکے
دھندلا چکا ہے آئینۂِ عتبار بھی

ایسا نہیں کہ صرف گریباں ہوا ہو چاک
دیکھا ہے میں نے دامنِ دل تار تار بھی

میں تو ہوا میں ہاتھ ہلاتا ہی رہ گیا
اس نے پلٹ کے دیکھا نہیں ایک بار بھی

کہنے کے با وجود نہ وہ باز آ سکا
حالانکہ تھوڑی دیر ہوا شرمسار بھی

دن ہی نہیں گزارا ہے امیدِ وصل میں
یوں ہی گزر گئی ہے شبِ انتظار بھی

مختار اسکے باب میں کیا عرض میں کروں
دونوں ہی خوشگوار ہیں نفرت بھی پیار بھی