Best Offer

سیاہ ترین دور سے گزرتا ہمارا یہ جمہوری ملک

تحریر: محمدقاسم ٹانڈؔوی

ملک تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گذر رہا ہے اور جو منصوبہ بندی اور برسوں پہلے یہاں تبدیلی لانے کے واسطے تیاریاں کی گئی تھیں اس کی حصولیابی اور ثمر آوری کی طرف ہمارا یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ بڑھا رہا ہے اور یہ کوششیں گذشتہ سات سالوں میں اکثریتی طبقہ کی طرف سے مذہبی فرقہ پرستی اور شدت پسندی کی شکل میں اپنے شباب پر ہیں، جن کو دیکھ کر ایسا لگتا کہ ہر دن طلوع ہونے والا سورج جو اپنی شعاؤں سے دھرتی کے ذرہ ذرہ کو روشن و چمکدار بنانے کا کام کرتا ہے، ویسے ہی فرقہ پرست عناصر اور دشمنانِ ملک و قوم اپنی بےہودہ حرکتوں اور منصوبہ بند سازشوں کر رچ کر اس ملک کی آب و ہوا کو زہریلی بنانے اور ملک کی جمہوری اقدار و روایات اور اس کی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے پر کمر بستہ ہیں۔ اکثریتی طبقے کی منفی سوچ اور زہریلی حرکتوں سے تنگ آکر ہر کس و ناکس فکر و تشویش میں مبتلا ہے اور ملک کے مستقبل اور یہاں کے رائج جمہوری نظام اور سیکولر اقدار کی سلامتی کے تئیں حساس و فکر مند ہے۔ ملک کی جمہوریت کو تہ و بالا کرنے اور ملک میں آباد غیر اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز کو ملک بدر کرنے یا ان کو اپنے ماتحت لانے کےلیے مخلتف حیلے بہانے تلاش کر مسلسل ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ اہل اقتدار اور اعلی مناصب پر فائز راہ نماؤں کا افسوسناک یہ رویہ اس پر امر مستزاد ہے، جن کی خاموشی کو اس سلسلے میں بطور دلیل ماننا چاہئے کہ فرقہ پرستی کا ننگا ناچ ناچنے والوں اور جمہوریت کا جنازہ نکالنے والوں کے متعلق ان کا اس طرح سے خاموشی اختیار کرنا اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کرنا، ضرور کسی سازش و پلاننگ کا حصہ ہے، جو انہیں اس طرح کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور وہ جگہ جگہ فرقہ وارانہ تشدد اور مذہبی منافرت کو بڑھاوا دینے میں لگے ہیں؟
اس جنونی ٹولہ کی طرف سے پہلے ‘گاؤ رکشا’ کے بہانے لوگوں پر جبر و تشدد کیا گیا اور ملک کے الگ الگ سے ایسی خبریں سامنے آئیں جہاں بغیر تفتیش و تحقیق کے لوگوں کو مار مار کر ہلاک کر دیا گیا، جس کا اثر یہ ہوا کہ بہت سے لوگوں نے ڈر کے مارے گوشت ہی کھانا بند کر دیا اور لوگ دیگر جانوروں کا گوشت لانے اور خریدنے پر ڈر محسوس کرنے لگے؛ یہاں تک کہ ہوٹل و ریسٹورانٹ والوں نے "نو بیر نو بیف” لکھا کر اپنے جان و مال کے تحفظ کا سامان کیا۔ کیونکہ لوگوں کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ اپنی جان کی سلامتی کا تھا، جہاں انہیں ہر وقت یہ خوف ستاتا رہتا تھا کہ پتہ نہیں کب کس راہ سے کوئی شریر و بدبخت گھر دوکان میں آ دھمکے اور فریجر میں رکھے سامان کی تلاشی لےکر فضول کا ڈرامہ کرنے لگ جائے؟
اس کے بعد شدت پسندوں نے ہجومی تشدد کو اپنے محبوب و پسندیدہ مشغلہ کے طور پر اپنانا شروع کر دیا، جہاں بھیڑیوں صفت بھیڑ کسی کو تنہا یا کمزور پاتی تو اسے مذہبی نعرہ لگانے پر مجبور کرتی اور نعرہ نہ لگانے کی صورت میں اسے موت کے گھاٹ اتار دیتی اور اس طرح اپنے جنون کی تسکین کر ملک میں ڈر و خوف کی لہر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور اس ان کو اپنے اس مشن و تحریک میں بہت حد تک کامیابی بھی ملی کہ ملک بھر میں کئی لوگوں کی موبلنچگ کی گئی اور مجرم آزاد گھومتے رہے؛ نہ ان کی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ کوئی کارروائی ان کے خلاف ہوئی۔
نفرت و عداوت اور مذہبی شدت پسندی کا یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا گیا اور مرکز سمیت ریاستوں میں جیسے جیسے زعفرانی ذہنیت کو قبضہ و اقتدار حاصل ہوتا گیا، ویسے ویسے ملک کی آزادی اور عوام کی خود مختاری پر خطرات کے سیاہ بادل چھاتے گئے اور ملک کی سالمیت کو مزید خطرہ لاحق ہوتا گیا۔ اور حالات اتنے مخدوش و ناموافق بنا دئے گئے کہ ملک کے اہم اداروں اور محکموں میں بیٹھے اشخاص فرقہ پرستوں کے خلاف کوئی نوٹس لیتے اور ان کو پابند سلاسل کرنے کی کوشش کرتے؛ مگر الٹے وہی شکار ہو گئے اور تمام تر حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھی یا تو آنکھیں موندے رہے یا حکمراں طبقہ کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔
میڈیا؛ جو جمہوریت میں چوتھے اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اور جس کے قلم و قرطاس اور کیمرہ کی آنکھ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ اگر وہ ان کا استعمال ایمانداری اور پوری صداقت کے ساتھ کرنے لگے تو بڑی بڑی طاقتیں ان کے سامنے نہ ٹک پائیں اور ان کے ذریعے پیش کی گئی حقیقت و سچائی کسی انقلابی تحریک سے کم ثابت نہ ہو۔ مگر افسوس! ملک کے میڈیا کا بڑا حصہ زر خرید غلام کی مانند وہی سب کچھ کہتا اور سناتا رہا، جس کا اسے پابند کیا گیا اور حکم دیا گیا، گویا ہمارے ملک کا میڈیا اپنا ضمیر بیچ کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا اور ملک کو بربادی کی طرف لے جاتا رہا۔
عدلیہ؛ جو ہر مظلوم و ستم زدہ کی آخری امید ہوتی ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ یہی وہ در ہے جہاں سے اسے انصاف و برابری حاصل ہوگی اور میرا حق مجھے ملےگا؛ مگر حیرت و استعجاب کی اس وقت کوئی حد نہیں رہتی جب ظلم و تشدد کا شکار کوئی شخص عدالت کے ان کمروں میں کھڑے ہو کر اپنے حق میں ناانصافی ہوتے دیکھتا ہے اور اپنے سامنے حق و انصاف کا گلا گھٹتے دیکھتا ہے، پریشان حال اور ستم رسیدہ شخص جب یہاں پر اپنی حق تلفی ہوتے دیکھتا ہے، تو اس کی آنکھوں کو انصاف کی کرسی پر بیٹھے جج و وکیل پر یقین ہی نہیں آتا کہ یہ انصاف دلانے کے ذمہ دار ہیں یا ناانصافی کے ٹھیکیدار؟ اس لیے کہ عدالت کے یہ کمرے اور یہ احاطے ہی وہ محفوظ جگہ تصور کی جاتی ہے، جہاں سے جمہوریت کی بقا، آئین و دستور کی سلامتی، عدل و انصاف کا بول بالا اور عوام کے حقوق کا تحفظ وابستہ ہوتے ہیں اور یہاں موجود ہر شخص کے کاندھوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جو لوگ منفی سرگرمیاں انجام دینے میں لگے ہیں، اپنی نازیبا حرکتوں سے ملک کے آئیںن و دستور سے کھلواڑ کر رہے ہیں یا جو لوگ طاقت و اقتدار کے بل بوتے پر ملک کی فضا اور ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان پر بروقت کاروائی کی جائے اور متآثرین کے حق میں انصاف و برابری کر ان کو ان کا جائز حق دلایا جائے۔ یہ کام ہیں عدلیہ کے اصل؛ مگر عدلیہ میں بھی بیٹھے بڑی مقدار میں ایسے ججز صاحبان کی ہے جو ایک خاص رنگ کا چوغہ زیب تن کئے ہوئے ہے اور وہ حقیقت سے چشم پوشی کرتے ہوئے تعصب پر مبنی فیصلہ جاری کر اکثریتی فرقہ کی خوشامد و رضامندی حاصل کرنے میں مشغول ہے۔
اس ملک کی اصل خوبصورتی کثرت میں وحدت پائے جانے سے اور مشترکہ تہذیب و ثقافت سے رہی ہے، اور اگر جس وقت بھی یہ دو چیزیں ختم ہو گئیں اور ان کی جگہ مذہبی شدت اور قومی عصبیت پائی جائےگی تو اس وقت ہمارے اس ملک کا خدا ہی محافظ ہوگا۔ اس لئے آج سب سے بڑی ضرورت جمہوریت کی بقا اور ملک میں آباد سبھی طبقات و خاندان سے وابستہ افراد کے دلوں سے ہر قسم کا ڈر و خوف کو دور کرنے کی اور ہر ایک کو مبنی برحق انصاف دلانے کی ہے۔ تبھی ہمارا یہ ملک گونا گوں صفات کا حامل اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا گہوارہ اور بہترین پناہ گاہ ثابت ہوگا۔

Check Also

محمد بن سلمان مصطفی کمال اتاتُرک کے نقشِ قدم پر!

ازقلم: شکیل منصور القاسمی معتدل اور لچکدار اسلام کے بانی مبانی محمد بن سلمان مصطفی …