Best Offer

آلٹرنیٹ میڈیا کی حقوق انسانی اور آلودگی پر مبنی دو شارٹ فلمز "Error” اور "Miasma” کو تین انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ایوارڈ

برازیل،انگلینڈ اور نیویارک فلم فیسٹیول میں بھی اسکریننگ کے لیے منتخب

ممبئی: 20 مارچ، ہماری آواز(نامہ نگار)
سوشل میڈیا اچھے برے پیغامات دنیا تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے،جہاں لوگ اسے اپنے مفاد اور غلط فہمیوں اور افواہوں کو بڑھاوا دینے کے لیے مختلف ویڈیوز بنا کر عام کر دیتے ہیں وہیں کچھ لوگ ان برائیوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مسائل کو جان کر بر وقت ان سے ہونے والے نقصانات اور اسکے ازالے کی طرف اشارہ کرکے عوامی بیداری لانے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی آلٹرنیٹ میڈیا پروڈکشن ہاؤس کی کوششیں ہیں جو پچھلے چند سالوں سے عوام میں مثبت سوچ پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔حال ہی میں آلٹرنیٹ میڈیا کی حقوق انسانی اور آلودگی پر مبنی دو شارٹ فلمز "Error” اور "Miasma” کو تین انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اور اورنگ آباد کے لیے یہ باعث فخر ہے کہ سلوڑ شہر کے محمد ساجد جنہوں نے یہ دونوں فلمز بنائی ہے ان دونوں شارٹ فلمز کو مزید برازیل،نیویارک اور انگلینڈ کے فلم فیسٹیول میں بھی اسکریننگ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔
انڈو فرینچ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ایوارڈ،لویس بینول میموریل ایوارڈ اور 7 آرٹ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ایوارڈ سے آلٹرنیٹ میڈیا کے ذمہ دار محمد ساجد کو ممبئی کے ویدا فیکٹری ہال میں اہم فلمی اور سماجی شخصیات کی موجودگی میں فلم کی اسکریننگ کے بعد ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر مشہور زمانہ ٹی وی ‘سیریل ٹیپو سلطان’ ، چندر کانتا’ اور گریٹ مراٹھا کے مشہور اداکار شہباز خان، نشا مکتی منچ مہاراشٹرا کی ریاستی کو آرڈینیٹر محترمہ ورشا ودیا ولاس،گلوبل آرگنائزیشن کے صدر نیلیش کمار اور جماعت اسلامی کے نائب امیر انجینئر سلیم صاحب موجود تھے۔جنید امام کی لکھی ہوئی اور انہیں کی ڈائریکشن میں بنائی گئی اس فلم میں نشانت سنگھ،ادیتہ سنگھ اور خود محمد ساجد نے اداکاری کی ہے۔الکھ نرنجن نے ویڈیو گرافی کے تمام جوہر دکھائے ہیں۔
اس موقعہ پر محترمہ ورشا ودیا ولاس نے کہا کہ آج اس طرح کی فلمز بڑے پیمانے پر بنانے کی ضرورت ہے اور خاص طور سے ان دونوں شارٹ فلمز کو اسکولوں،کالجوں اور نوجوانوں میں بتا کر بیداری لانے کی ضرورت ہے۔محمد ساجد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں نے انسانوں کی سہولت اور بھلائی کے لیے نئی نئی ایجادات کی تاکہ انسانی زندگی آسان ہو جائے لیکن شیطان صفت لوگ انسانوں کے ذریعے بنائی گئی ان چیزوں کو انسانوں کی ہی بربادی کے لئے استعمال کر رہے ہیں یہ انسانیت کی بڑی بد نصیبی ہے۔آخر میں انجینئر سلیم صاحب نے کہا کہ دلوں کی تبدیلی کے بغیر سماج میں کوئی بھی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی اور آج کے اس موجودہ دور میں اس طرح کی شارٹ ویڈیوز کے زریعے اس کام کو کیا جا سکتا ہے۔شہباز خان نے فلم کو بہت سراہا اور آلٹرنیٹ میڈیا کے ساتھ تعاون کا وعدہ بھی کیا۔بڑی تعداد میں فلم دیکھنے لوگ موجود تھے۔

Check Also

مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملہ: بھگوا ملزم کرنل پروہت کو دھچکہ، ہائی کورٹ نے ٹرائل پر اسٹے لگانے سے انکار کیا

بم دھماکہ متاثرین کی بروقت مداخلت پر ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا ممبئی: یکم …