Best Offer

حرمِ کعبہ نیا، بت بھی نئے، تم بھی نئے

ازقلم: سمیع اللہ خان

آر ایس ایس کا نظریہ مسلمانوں کو ہتھیاروں سے تہہ تیغ کرنے سے زیادہ انہیں ” ہندوانہ مسلم ” بنانے کا ہے، مولانا ارشد مدنی موہن بھاگوت سے ملنے کےبعد فرماتے ہیں کہ بھارت کے مسلمان خود کو ہندو بھی کہہ سکتےہیں اور مولانا اسجد مدنی فرماتے ہیں کہ دیوالی مناؤ کیونکہ دیوالی مرحوم مولانا حسین احمد مدنی بھی مناتے تھے، اس طرح کے بیانات مسلمانوں کے ہندوانہ کرن کی طرف بہت ہی ابتدائی قدم ہیں، جب کبھی قوموں میں استعمار کی مطلوبہ تبدیلی پیدا کرنی ہوتی ہے اور بڑے پیمانے پر اقوام کو استعماری مذاہب میں ضم کرنے کے عمل کا آغاز ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس عمل کو متعلقہ قوموں کے قدآور حضرات کے بیانات کے ذریعے نارملائز کیا جاتاہے، سَنگھ یہ سمجھتا ہے کہ کروڑوں مسلمانوں میں ایمان و عقائد کے تئیں زیادہ حساسیت وابستگانِ مدارس میں پائی جاتی ہے، اور جب کبھی بھارتی مسلمانوں کو ہندوانہ مسلمان بنایا جائےگا ان سے شرکیہ اعمال کرائے جائیں گے اور ان کے عقیدۂ توحید کو اندر سے کَم زور کیا جائےگا تو اہلِ مدارس مزاحمت کریں گے لہذا سب سے پہلے انہی کے ایمانی نظریات میں رواداری اور لچک کےنام پر تحریف پیدا کی جائے، آر ایس ایس فی الحال نریندرمودی کے اقتدار میں اس مشن پر عمل پیرا ہے، جب تک نام نہاد جمہوریت کا بھرم قائم رہےگا تب تک وہ انہی راستوں سے مسلمانوں کو نظریاتی ارتداد میں مبتلا کرنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔
افسوس یہ نہیں کہ عقائد میں انحراف کی یہ سَنگھی آندھی مسلمانوں کے قدآور گھرانوں تک جاپہنچی ہے افسوسناک یہ ہے کہ انہیں اس غیرشرعی اور منحرف راستے پر چلنے سے باز رکھنے والا ان کی جماعت میں کوئی نانوتوی، کوئی شیخ الہند، کوئی تھانوی، کوئی شاہ کشمیری، کوئی عبیداللہ سندھی نظر نہیں آتا، ہندوستان کے وہ مفتیان و فقہاء جو باہمی اختلافات اور ملّی معاملات میں موقف کے تفرد پر صفحات سیاہ کردیتے ہیں اتنے سنگین معاملے پر، اُن کی بھی زبانیں گنگ اور قلم کی روشنائی سوکھ جاتی ہے جب ایمانی انحراف ان کے اپنے ٹھیکیداروں کے یہاں سے آتا ہے،
” من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو ” والا معاملہ بھی تو برقرار رکھنا ہے ۔
یقینًا ابھی یہ صرف ابتداء ہے، اندھے معتقدین اس کی تاویل کریں گے جیساکہ وہ ابھی بھی کررہےہیں اور ایسے ہی غالی عقیدت مند اپنی اندھی عقیدت کی پیروی کرتے کرتے ایک دن ‘ ہندوانہ اسلام ‘ کے گڑھے میں بھی نظر آسکتےہیں، اور یہی تکلیف دہ ہے یقینًا جو اہلِ علم ہیں وہ کبھی بھی ضلالت کے راستےمیں بڑوں کا تعاون نہیں کریں گے لیکن اندھے عقیدت مندوں کے نصیب میں قدرت کے کچھ تلخ فیصلے ہوتےہیں وہ غار اور گڑھے میں فرق نہیں کرپاتے ہیں، اللہ حفاظت فرمائے، خواص کو ایمانی عزیمت کی دولت سے مالامال فرمائے۔
گھر واپسی کوئی شوشہ نہیں بلکہ آر ایس ایس کا مستقل نظریہ ہے، جس پر دورافتادہ دیہاتوں میں وہ خوب کام بھی کررہےہیں اور بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو اس جال میں پھانسنے کے لیے ان کے بڑوں کا بھی شکار کر رہےہیں،
یہود و ہنود کو دنیا بھر کے مقامی مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے انہیں خطرہ مؤمنین سے ہے، سر سے حجاب اتارنے، دیوالی اور ہولی منانے کےبعد آپ نام کے مسلمان تو باقی رہ سکتےہیں البتہ مؤمنین کی صف میں آپکو کوئی جگہ نہیں ملےگی، یعنی کہ خطرہ ایمانی بقاء کا ہے مگر بعض لوگوں کی قسمت میں نجانے کیا لکھا ہوا ہے کہ وہ ہنوز ایمان کے مقابلے میں اندھی عقیدت کو اختیار کر رہےہیں یقینًا یہ خیر کی علامات تو نہیں ہیں، باطل مسلمانوں کو کعبہ سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے اور مسلمان باطل سے سمجھوتہ کر ایمان کی بجائے نت نئے بتوں کے حرم تراش رہے ہیں۔

بادہ آشام نئے, بادہ نیا, خم بھی نئے
حرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئے

Check Also

میری نماز چھوٹنے کا گناہ کس کے سر پر؟

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی آج عصر کی نماز پڑھ کر اہلیہ کے ساتھ بازار …