Best Offer

نوجوان شاعر: عبدالاول عبیداللہ سنگرامپوری

تحریر: نقی احمد ندوی، ریاض سعودی عرب

دنیا میں جتنے بھی انقلاب آے، ان میں جہاں سماج کے دوسرے طبقوں نے اپنا اپنا رول ادا کیا وہیں شعراء کرام نے بھی اپنے انقلابی اشعار سے اپنی اپنی قوموں کے اندر ہمت وجرئت اور جوش وولولہ پیدا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ خود ہندوستان کی آزادی میں اردو شعراء کا رول ایک ایسا سنہرا باب ہے جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری ، ساحر لدھیانوی، اور حسرت موہانی ، اور نہ جانے کتنے ایسے شعراء ہیں جن کی شاعری نے ہمارے ملک کی آزادی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
جوش ملیح آبادی کے ان اشعار پر نظر ڈالیں :

کیوں ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونچ رہی ہیں تکبیریں
اکتائے ہیں شائد کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں
کیا انکو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھے
ایک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریں
سنبھلو کہ وہ بیٹھیں دیواریں ، دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں

اقبال کے چند اشعار ملاحظہ ہوں

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو!
کاخ امراء کے درودیوار ہلادو!
گرماو غلاموں کا لہو سوز یقیں سے
کنجشک فرومایہ کو شاہین سے لڑادو

اس دور میں جب کہ ہمارے ملک کے حالات جہاں سماج کے بہت سارے طبقوں کو جھنجھوڑ رہے ہیں وہیں شعراء بھی اپنے ارد گرد پیدا ہونے حالات کو بدلنے اور سماج کے اندر ایک نئی جان اور ایک روح پھونکے میں مصروف ہیں۔ چنانچہ شعری مجموعہ عناقید نجوم کے شاعر بھی ہمیں اس دور کے شعراء کی پہلی صف میں نظر آتے ہیں جو حالات سے لڑنے کی تلقین کررہے ہیں اور اپنی قوم کو ترقی اور عروج کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ عبد الاول عبید اللہ سنگرامی ایک ابھرتے ہوے نوجوان شاعر ہیں جن کا پہلا شعری مجموعہ (عناقید نجوم) ابھی منظر عام پر آیا ہے۔ اس شاعر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے اندر ایک دھڑکتا ہوا دل ہے جو اپنی قوم کی حالت دیکھکر پزمردہ نہیں ہوتا ، اسکے اندر ناامیدی اور مایوسی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی قوم کو ایک نئی سمت اور ایک نئی راہ دینا چاہتا ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کے حالات کی اپنے چند اشعار میں یوں تصویر کشی کررہا ہے۔ ـ

آج پھر صیاد نے دنیا کو حیراں کردیا
ایک کاری ضرب میں سارا پرافشاں کردیا
شدت تکلیف سے بسمل نے جب فریاد کی
رکھ دیا گردن پہ نشتر ، یوں خموشاں کردیا
سر سے آنچل کو اتارا چھین لی شرم وحیا
بنت حوا کو گلی کوچے میں عریاں کردیا

ٓآج کے حالات کو دیکھ کر جب شاعر کا دل ٹوٹنے لگتا ہے، تو اگر ایک طرف وہ اسے محبت خداوندی او ر عشق رسول کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف خود خدا کی بارگاہ میں اپنی قوم کے لیے یوں دعا گو ہوتا ہے:

ہرمسلماں کو اسلام کا عرفان دے دے
دل درخشاں ہو اسے جلوئے قرآن دے دے
جام ایوب پلا ، رحم کا ساگر کردے
رخ ضیاپاش بنا، حسن کا پیکر دے دے
علی کا تیغ تو خالد کا سیف دے اس کو
پلٹ دے پھر سے زمانہ وہ کیف دے اس کو
نبی کی شان جمالی تو اس کو دکھلادے
شروق شمش کا مقصد تو اس کو بتلادے
کچھ ایسے شوق سے وہ سوئے عرش کو ہوے
قدم کو تیز بڑھا اس سے کہکشاں بولے

عبد الاول کی شاعری میں ہمیں جہاں غزل کی خوشبو ملتی ہے وہیں محبت الہی، عشق رسول اور اسلامی تعلیمات کے ایسے ساز سنائی دیتے ہیں جو اس دور کے شعراء میں بہت کم پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ درج ذیل چند اشعار ملاحظہ ہو!

اسی کی حمد سے آسودہ حال ارض وسما
پیام اس کا امم کو شعور دیتا ہے
اسی کے دست سے جلتا ہے وہ چراغ اول
جو سارے گوشہ عالم کو نور دیتا ہے

کچھ ایسے بھی اشعار ہیں جو ہمیں علامہ اقبال کی یاد دلادیتے ہیں اور ہمیں یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں یہ اشعار علامہ اقبال ہی کے تو نہیں ہیںِ جیسے:

ہمارے دل میں نہاں لا الہ الا اللہ
ہمارے لب پہ روان لاالہ الا اللہ
ہماری ضد تھی کہ جہاں دیکھیں جلوء جاناں
صدائے طور وہاں لا الہ الا اللہ
سناو شوق سے اول سے بہت کا پیغام
پیام حور جناں لاالہ اللہ

ہمیں امید ہے کہ یہ ابھرتا ہواشاعر اردو ادب کی موجودہ تاریخ کا ایک روشن ستارہ ثابت ہوگا اور انکا یہ پہلا شعری مجموعہ عناقید نجوم علم وادب کے حلقہ میں مقبول عام ہوگا ۔